وقف ترمیمی بل ایک بہانہ، دراصل مسلمان نشانہ: محمد محمود علی کا بیان

مسلمانوں کے تئیں مرکزی حکومت کی بدنیتی آشکار، سیکولر قائدین مخالفت کریں
حیدرآباد، (آداب تلنگانہ) سابق ریاستی وزیر داخلہ و رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس محمد محمود علی نے مرکزی حکومت کے وقف ترمیمی بل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ در اصل وقف ترمیمی بل ایک بہانہ ہے اور اس کے ذریعہ مسلمان نشانہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ میں ترمیم در اصل دستور ہند کی روح کے مغائر ہے۔ مرکزی حکومت کی مجوزہ وقف ایکٹ میں ترمیم دستور کی مختلف دفعات 14-15 اور 25 کے اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ وقف اراضیات در اصل ہمارے اسلاف کے عطیات ہیں جن کا منشا و مقصد غریب مسلمانوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے ۔ تاہم آج حکومت بدنیتی پر مبنی وقف ایکٹ کے ذریعہ اوقافی اراضیات کو نقصان پہنچانے کے علاوہ وقف بورڈ کے اختیارات کو سلب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جو بل پیش کیا گیا ہے اس میں 1995 کے وقف ایکٹ کا نام بدلتے ہوئے اسے” یونیفائیڈوقف مینجمنٹ ،امپاورمنٹ،ایفیشینسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1995 کیا گیا ہے۔
مذکورہ بل میں چالیس تبدیلیاں کی گئی ہیں اور مسلمانوں بالخصوص خواتین سے ہمدردی کے نام پر اوقافی اراضیات کی تباہی کی راہیں ہموار کی گئی ہیں۔ نئی ترمیمات کی منظوری کی صورت میں تمام اختیارات ضلع کلکٹر کو حاصل ہوں گے۔ در اصل کلکٹر راج وجود میں آئیگا۔ اوقافی جائیدادوں سے متعلق قطعی فیصلہ وقف ٹریبونل کے بجائے کلکٹر کا ہوگا۔ دراصل یہ بل مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے خلاف ہے ۔ حکومت اس بل کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کی حیثیت اور نوعیت کو بدلنا چاہتی ہے ۔ ترمیم کے پس پردہ حکومت کی یہی بدنیتی کارفرما ہے کہ اوقافی جائیدادوں پر قبضے آسان ہوجائیں۔ محمد محمود علی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے لئے قطعی قابل قبول نہیں ہے۔ اس بل کا اصل مقصد وقف املا ک کی خودمختاری کو کم کرنا ہے۔ اس بل کے ذریعہ اقلیتوں کو حاصل دستوری حقوق کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
موجودہ قانون میں وقف املاک سے متعلق کسی بھی تنازعہ کی اندرون ایک سال یکسوئی کی بات کی گئی ہے جب کہ نئے مجوزہ بل میں اس کی مدت کو بڑھادیا گیا ہے جس سے قانونی تنازعات کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ وقف ترمیمی بل میں متولیوں کی زبانی تقرری کی شق کو بھی ہٹادیا گیا ہے ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ وقف اراضیات کا معاملہ خالصتاً مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل علمائے کرام اور دانشوران قوم سے مشاورت کرنی چاہئے تھی۔ تاہم حکومت نے من مانی کی ہے ۔ اس مسئلہ کا تعلق پرسنل لا سے ہے اسی لئے علٰیحدہ کوئی قانون کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ محمد محمود علی نے پرزور انداز میںکہا کہ مسلمان ہر قسم کا نقصان برداشت کرسکتا ہے تاہم شریعت اور مسلم پرسنل لا میں مخالفت کو برداشت نہیں کرسکتا ۔محمد محمود علی نے کہا کہ اب جب کہ وقف ترمیمی بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو روانہ کیا گیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیکولر قائدین اس معاملہ میں مداخلت کریں اور ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے پر مبنی اس بل کی مخالفت کریں۔



