جینور فساد: جمعیۃ العلماء ضلع آصف آباد کے وفد کی ضلع کلکٹر آصف آباد وینکٹیش دوھترے سے ملاقات
جینور فساد کے خاطیوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ،متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے

آصف آباد-09/(ستمبر) (آداب تلنگانہ نیوز): ریاستی صدر تلنگانہ و آندھرا مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب کی ہدایت پر جمعیتہ العلماء آصف آباد کے جمیع ذمہ داران کے ایک وفد نے مولانا محمد احمد مبین قاسمی صدر جمعیت العلماء ضلع آصف آباد اور سرپرست مولانا محمد عبدالرحیم فیض القاسمی کی نگرانی میں آصف آباد ضلع مرکز میں کلکٹریٹ پہنچ کر کمرم بھیم آصف آباد ضلع کلکٹر وینکٹیش دھوترے سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران، وفد نے تحریری یادداشت کے ذریعہ ضلع آصف آباد کے منڈل مستقر جینور میں ہونے والے شر و فساد کی شکایت درج کی، جس میں مساجد میں توڑ پھوڑ، قرآن پاک کی بے حرمتی، اور مسلمانوں کی دکانات و گاڑیوں کو منظم سازش کے تحت نقصان پہنچایا گیا تھا۔
حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ خاطیوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ مولانا مبین قاسمی اور جمیع ذمہ داران و اراکین عاملہ نے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کا جو مالی نقصان ہوا ہے اس کی فی الفور بھرپائی کی جائے اور پولیس عہدیداروں کو معطل کیا جائے، کیونکہ یہ فساد پولیس کی موجودگی میں ہوا ہے اور پولیس فسادیوں پر قابو پانے میں ناکام رہی۔
مولانا مبین قاسمی نے کہا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے، لیکن مسجد کی بے حرمتی اور قرآن پاک کی بے حرمتی کو ساری دنیا کا مسلمان، چاہے وہ کہیں بھی ہو، ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔ مقامی افراد کے ذریعہ ملی اطلاع کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد میں 95 دکانات، 11 مکانات، اور 41 چھوٹے بڑے گاڑیوں کو جلایا گیا۔
اس موقع پر وفد میں شامل افراد میں مولانا محمد مبین قاسمی، مولانا محمد عبدالرحیم فیض القاسمی، مولانا سید ہارون رشید قاسمی، حافظ عبید بن عبداللہ، مولانا میر اشرف (شہباز) علی ہاشمی اسعدی، مولانا مسیح الدین سبیلی، حافظ میر طاہر علی ہاشمی فلاحی، حافظ سعید بن عبداللہ، حافظ محمد عتیق الرحمٰن فیض، مولانا ابو طالب بن عیسی قاسمی، مولانا شیخ اسلم مفتاحی، مولانا عارف، حافظ شیخ عبدالحکیم، حافظ رضوان، حافظ محمد قاسم، حافظ سمیر نظامی، حافظ منورالدین، حافظ محمد ساجد خان و دیگر موجود تھے۔



