تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

"آپریشن مسکان”۔تلنگانہ کے متحدہ عادل آباد ضلع میں 300 سے زائد بچوں کو جبری مزدوری سے نجات دلائی گئی

"آپریشن مسکان”۔تلنگانہ کے متحدہ عادل آباد ضلع میں 300 سے زائد بچوں کو جبری مزدوری سے نجات دلائی گئی

حیدرآباد 3اگست: حال ہی میں مکمل ہونے والے "آپریشن مسکان” کے دوران تلنگانہ کے متحدہ عادل آباد ضلع میں 300 سے زائد کمسن بچوں کو جبری مزدوری سے نجات دلائی گئی، جس سے وہ دوبارہ اسکول جا کر اپنا بچپن حاصل کر سکیں گے۔

عہدیداروں کے مطابق یکم جولائی سے 31 جولائی تک جاری رہی ایک ماہ کی اس مہم کے دوران مجموعی طور پر 328 بچوں کو بچایا گیا۔ ان میں سے سب سے زیادہ 122 بچے منچریال ضلع سے، 93 عادل آباد سے، 65 نرمَل سے اور 48 آصف آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کارروائی محکمہ خواتین و اطفال بہبود کی نگرانی میں کی گئی، جس میں پولیس، ضلعی چائلڈ پروٹیکشن یونٹس، محنت، تعلیم اور صحت کے محکموں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں نے بھی تعاون کیا۔ مشترکہ ٹیموں نے ہوٹلوں، اینٹ بھٹیوں، پھلوں کی دکانوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر اداروں پر اچانک چھاپے مار کر بچوں کو استحصال والے حالات سے نجات دلائی۔

مہم کے دوران آجرین اور والدین کو جبری مشقت کے قانونی و سماجی نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے بیداری مہم بھی چلائی گئی۔

پولیس کے مطابق بچائے گئے بچوں کو کونسلنگ کے بعد والدین کے حوالے کیا گیا۔ ان اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے جو معمولی اجرت پر بچوں کو ملازم رکھتے تھے اور ان کا استحصال کرتے تھے۔ بچائے گئے کئی بچے دیگر ریاستوں جیسے اڈیشہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر سے تعلق رکھتے تھے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ 2017 سے جولائی 2025 تک "آپریشن اسمایل” کی آٹھ قسطوں کے ذریعہ متحدہ عادل آباد ضلع سے 7,000 سے زائد بچوں کو بچایا جا چکا ہے۔ ان میں سے کئی کو ان کی آبائی ریاستوں واپس بھیج دیا گیا، جبکہ یتیم، بے سہارا اور خصوصی ضروریات والے بچوں کو سرکاری ہومس میں داخل کیا گیا۔

ہر اسمبلی حلقہ میں سات رکنی خصوصی ٹیم، جس میں چار پولیس کانسٹیبل بھی شامل تھے، نے ایک ماہ طویل مہم کے دوران جبری مزدوری کرنے والے بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں بچایا۔ ان ٹیموں نے خاندانوں کو بھی کونسلنگ فراہم کی اور بچوں کو اسکول میں داخلہ دلایا۔ چھوٹے ہوٹلوں، بیکریوں، پھل فروشوں اور دیگر کاروباروں کے خلاف نابالغ بچوں کو ملازم رکھنے پر مقدمات درج کیے گئے۔

ریاست نے 2017 میں "آپریشن مسکان” کا آغاز کیا تھا جو کہ ایک دوہری مہم کا حصہ ہے — "آپریشن اسمایل” جنوری میں اور "آپریشن مسکان” جولائی میں جس کا مقصد جبری مشقت کا مکمل خاتمہ ہے۔ یہ پہل محکمہ خواتین و اطفال بہبود کی قیادت میں پولیس، لیبرکے عہدیداروں اور رضاکار تنظیموں کے تعاون سے چلائی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button