تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

بیالٹ پیپر نظام کی واپسی کے ذریعہ رائے دہندوں کے اعتماد کو بحال کیاجائے: کے ٹی آر

بیالٹ پیپر نظام کی واپسی کے ذریعہ رائے دہندوں کے اعتماد کو بحال کیاجائے
دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد کارگزار صد ر بی آرایس کے ٹی آر کی میڈیا سے بات چیت

حیدرآباد۔5اگست(آداب تلنگانہ نیوز)بھارت راشٹرا سمیتی نے آج الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی )پر زوردیاکہ وہ آنے والے بہار اسمبلی انتخابات اور 2029کے عام انتخابات کےلئے بیالٹ پیپر کے نظام کو واپس لائے۔الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں(ای وی ایمس)پربڑے پیمانے پر عوامی عدم اعتمادکاحوالہ دیتے ہوئے پارٹی نے جمہوریت اور انتخابی نظام میںرائے دہندوں کے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔دہلی میں ای سی آئی کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کارگزار صدر بی آرایس کے تارک رامارﺅ نے کہاکہ امریکہ ‘برطانےہ جرمنی اور اٹلیجیسے ممالک نے ای وی ایمس کاتجربہ کیاتھا تاہم عوام کے اعتمادکی کمی کے باعث ای وی ایمس کے استعمال کو ترک کردیا۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان زائد از 100کروڑرائے دہندوں کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے بیالٹ پیپرس کے ذریعہ رائے دہندوں کا اعتماد بحال کیاجاناچاہئے۔انہوںنے ای وی ایمس پر انتخابی بگاڑ کا سبب بننے کے الزامات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

کے ٹی آر نے کہاکہ رائے دہندوں کا خیال ہے کہ ان کے ووٹ ان کے پسندیدہ امیدوار کو نہیں جارہے ہیں۔ہم نے اس تشویش کو ای سی آئی کے سامنے شدت کے ساتھ پیش کیا۔انہوںنے کہاکہ بی آرایس پارٹی نے بہار میں فہرست رائے دہندگان پر نظر ثانی کے ا یک حصہ کے طور پر 65لاکھ ووٹرس کے نام حذف کئے جانے پراستفسار کیا۔کے ٹی آرنے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور عوامی اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے بی آرایس پارٹی نے تجویز پیش کی کہ جب بھی انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کی جاتی ہے تو حذف شدہ ناموں کی جانچ پڑتال کےلئے گاﺅں کی سطح سے قومی سطح تک کل جماعتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔انہوںنے کہاکہ اصلاحی اقدامات روبہ عمل لائے جانے چاہئیں۔راماراﺅ نے کمیشن پر زوردیاکہ وہ ایسی سیاسی جماعتوں کےخلاف کارروائی کرے جو اپنے انتخابی منشور پر عمل آوری میں ناکام رہی ہیں۔تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آرنے کہاکہ کانگریس نے 420جھوٹے وعدوں کے ذریعہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔تاہم گزشتہ 20ماہ کے دوران وعدوں کی تکمیل میںمکمل طور پر ناکام رہی ہے۔کے ٹی آر نے پرزور مطالبہ کیا کہ اگر سیاسی جماعتیں اقتدار پر فائز ہونے کے بعد عوام کو دھوکہ دیتی ہیں تو ان کی رکنیت منسوخ کی جانی چاہئے اور انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیاجاناچاہئے۔بی آر ایس نے متعد د مواقع پر پارٹی کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پارٹی کے نشان کار سے مشابہ انتخابی نشانات کو ہٹانے کے اپنے دیرینہ مطالبہ کا بھی اعادہ کیا۔کے ٹی آر نے کہاکہ روڈ رولر ‘چپاتی رولر یا جہاز جیسے مشابہ نشانوں کی الجھن کے باعث ہم نے بہت سی نشستیں انتہائی قلیل اکثریت سے کھوئی ہیں۔2019کے لوک سبھا انتخابات میں اسی طرح کے مشابہ نشان کو بھونگیر میں 27ہزار ووٹ حاصل ہوئے اور ےہ نشست صرف 5ہزار ووٹوں کے فرق سے بی آرایس ‘کانگریس سے ہار گئی۔ایک سوال کے جواب میں کے ٹی آر نے بی سی ریزرویشن کےلئے دہلی میں کانگریس پارٹی کے احتجاج کو ایک بھونڈے مذاق سے تعبیر کرتے ہوئے مسترد کردیا۔انہوںنے کہاکہ حکمران جماعت بی سی سب پلان اور سرکاری کنٹراکٹس میں ریزرویشن جیسے وعدوں پر عمل آوری میں ناکام رہی ہے۔جبکہ ےہ معاملات اس کے دائرہ اختیار میں ہےں۔اس کے برخلاف بار بار مرکز پر الزام عائد کیاجارہاہے۔کے ٹی آر نے کالیشورم پروجیکٹ پر پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ بکواس اور سیاسی مقصد براری پر مبنی قراردیا۔انہوںنے مزید کہاکہ صرف 60صفحات پر مشتمل منتخب مواد جاری کیاگیاہے۔انہوںنے کہاکہ 665صفحات پر مشتمل مکمل رپورٹ کی اجرائی عمل میںنہیں لائی گئی ہے جوکہ ُان کی کہانیوں کی حمایت نہیں کرتی۔اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ کمیشن واضح طور پر سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button