تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

روزگارکا جھانسہ۔ نوجوان کرٖغستان میں شدید بیمار، وطن واپسی کی فریاد

تلنگانہ :روزگارکا جھانسہ۔ نوجوان کرٖغستان میں شدید بیمار، وطن واپسی کی فریاد

حیدرآباد، 9 اگست: خلیجی ملک بھیجیں گے” کہہ کر جھوٹے وعدے کرنے والے ایجنٹوں کے جھانسے میں آ کرتلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع کے دوباک حلقہ کے بالونتھاپور گاؤں کا نوجوان رجنی کانت دھوکہ کھا بیٹھا۔ اب وہ کرغزستان میں شدید بیماری سے پریشان ہوکر وطن واپسی کی فریاد کر رہا ہے۔

رجنی کانت، جو جے سی بی اور ڈوزر گاڑیوں کا ڈرائیور تھا، دو چھوٹے بچوں اور بیوی کی کفالت کرتا تھا۔ زیادہ کمائی کے خواب لے کر اس نے تین سال قبل راجنا سرسلہ ضلع کے سارم پلی کے ایجنٹ سے رابطہ کیا، جنہوں نے پہلے اسے ملیشیا بھیجا تھا۔ اس بار انہوں نے روس میں "سینٹرنگ” کے کام کی آڑ میں اسے نوکری کا جھانسہ دیا اور دو لاکھ دس ہزار روپے وصول کیے۔

جولائی کے پہلے ہفتہ میں کام کے دوران ایک حادثہ میں رجنی کانت کے جبڑے کی دو ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ علاج کے دوران ہی ایجنٹوں نے بتایا کہ اس کا ویزا، پاسپورٹ اور ٹکٹ آ چکے ہیں۔ اس نے بیماری کی حالت میں جانے سے انکار کیا، لیکن ایجنٹوں نے زبردستی کرغزستان بھیج دیا۔

15 جولائی کو ممبئی کے راستے اسے کرغزستان پہنچایا گیا، جہاں اسے سینٹرنگ کے بجائے اسٹیل راڈیں اور سیمنٹ کی بوریاں اٹھانے کا مشقت بھرا کام دیا گیا۔ وہاں پہنچتے ہی اس کا پاسپورٹ اور ویزا چھین لیا گیا۔ محض تین دن میں دوبارہ زخم سے خون بہنا شروع ہوا، شدید سوجن اور انفیکشن کے باعث اس کی حالت مزید خراب ہو گئی۔رجنی کانت نے منت سماجت کی کہ اسے وطن واپس بھیجا جائے، لیکن کمپنی نے صاف انکار کر دیا اور اسے احاطہ میں قید رکھا۔ فون پر اس نے ارکان خاندان کو بتایا کہ وہ بھوکا رکھا جا رہا ہے۔

اس پر اس کی ماں نے میدک کے رکن پارلیمنٹ رگھونندن راؤ سے ملاقات کر کے فریاد کی۔ 30 جولائی کو رکن پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو خط لکھا۔ کرغزستان کی کمپنی نے بتایا کہ پاسپورٹ اور ویزا واپس کرنے کے لیے 70 ہزار روپے دینے ہوں گے۔

رجنی کانت کی ماں اور اہلیہ نے حکومت سے مالی امداد کی اپیل کی ہے، کیونکہ ان کے پاس اب ایک پیسہ بھی نہیں بچا۔پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمتوں کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے افراد پر بھروسہ نہ کریں۔ اکثر لوگ بیرون ملک کے بجائے کسی اور جگہ بھیجے جاتے ہیں اور انہیں سخت تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button