تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

تلنگانہ بھر میں شدید بارش ، عام زندگی مفلوج ۔ نشیبی علاقے زیر آب ،آبی پراجکٹس کی سطح میں اضافہ

تلنگانہ بھر میں شدید بارش ، عام زندگی مفلوج ۔ نشیبی علاقے زیر آب ،آبی پراجکٹس کی سطح میں اضافہ

حیدرآباد 13اگست: تلنگانہ کے کئی اضلاع میں گذشتہ دو دن سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے اور نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ حیدرآباد سمیت مختلف اضلاع میں ٹریفک کی آمدورفت میں رکاوٹ پیداہوگیی۔یادادری بھونگیر ضلع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلکی سے درمیانی بارش ریکارڈ کی گئی۔ ولی گونڈا منڈل کے ورکٹ پلی میں سب سے زیادہ 46 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ ولی گونڈا، بھونگیر، یادگری گٹہ اور دیگر مقامات پر بھی خاطر خواہ بارش ریکارڈ کی گئی۔

آصف آباد ضلع کے ریببنا علاقہ میں سب سے زیادہ بارش 220.8 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی۔ ضلع کلکٹر وینکٹیَش دوتری نے اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کیا اور نشیبی علاقوں کے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی۔ کومرم بھیم پراجیکٹ کے دو دروازے کھول کر 1247 کیوسک پانی خارج کیا جا رہا ہے اور مزید پانی چھوڑنے کا امکان ہے۔سنگاریڈی ضلع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37.3 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ کئی تالاب لبریز ہو گئے اور 6 نچلے پلوں پر آمدورفت روک دی گئی۔ ضلع میں این ڈی آر ایف کی 20 ٹیمیں، دو کشتیاں اور لائف جیکٹس تعینات کی گئی ہیں۔ دو افراد کے لاپتہ ہونے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

کریم نگر میں سوڈا چیئرمین کومٹ ریڈی نریندر ریڈی نے شہر کے نشیبی علاقوں کا معائنہ کیا اور ہدایت دی کہ ممکنہ تین دن کی بارش سے قبل حفاظتی اقدامات مکمل کیے جائیں۔منچریال ضلع میں شدید بارش کے سبب آبی ذخایر کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ سری پد ایلم پلی پراجیکٹ میں پانی کی آمد سے 40 ہزار ٹن کوئلے کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ رام نگر پل کے اوپر سے پانی بہنے کے سبب کئی دیہات کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

نلگنڈہ ضلع میں موسی پراجکٹ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونے سے حکام نے ماہی گری اور ندی کو عبور کرنے پر پابندی لگائی ہے۔ اس وقت موسی ڈیم سے 13 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے اور مزید بارش کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی اقدامات میں اضافہ کیاگیا ہے۔حیدرآباد میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات سے مسلسل بارش کے باعث جوبلی ہلز، بنجارہ ہلز، بالا نگر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے۔ کئی مقامات پر درخت اکھڑ گئے اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ بلدیہ کی ٹیمیں پمپنگ مشینوں کے ذریعہ پانی کی نکاسی میں مصروف ہیں، جبکہ ٹریفک پولیس نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی ہے۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں تک مزید بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ کم دباؤ کا مرکز خلیج بنگال میں موجود ہے جو مزید شدت اختیار کر رہا ہے، جس کے باعث ریاست کے کئی حصوں میں شدید بارش کے امکانات ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button