تلنگانہ میں کھاد کی قلت، کسان پریشان، کے ٹی آر کی حکومت پرتنقید

تلنگانہ میں کھاد کی قلت، کسان پریشان، کے ٹی آر کی حکومت پرتنقید
حیدرآباد 14اگست: تلنگانہ کے سابق وزیر وبی آرایس کے کارگزارصدر تارک راما راو نے ریاست میں کھاد کی قلت کا ریاستی حکومت پر الزام لگایا۔انہوں نے زور دیتے ہویے کہا کہ تمام اضلاع میں خریف کی فصل کی سرگرمیوں کاآغاز ہوگیا ہے، لیکن کسانوں کو کھاد کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ کسانوں کو کھیتوں میں کام کرنے کے بجائے پرائمری ایگریکلچر سنٹرز پر کھاد کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ وہ پریشان ہیں کہ انہیں کب کھاد ملے گی اور ان کے کھیتوں کا کام کیسے ہوگا۔
کے ٹی آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں نے بیج تو بو دیے ہیں لیکن اب وہ کھاد کے لیے دکانوں کے باہر انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسان اپنے کھیتوں کا کام چھوڑ کر سوسائٹیوں کے چکر لگا رہے ہیں۔کے ٹی آر نے مزید کہا کہ کسان ایک بوری کھاد کے لیے صبح سے رات تک بھوکے پیاسے انتظار کر رہے ہیں لیکن پھر بھی انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں کھاد آسانی سے دستیاب تھی لیکن کانگریس کے دور میں کسانوں کو ایک بوری بھی نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ریونت سرکار کی ناکامی قرار دیا۔



