حیدرآباد میں سڑکوں پرلٹکتے خطرناک تاروں کونکالنے کا کام،مزیدوقت دینے سروس پرووائیڈرس کامطالبہ

حیدرآباد میں سڑکوں پرلٹکتے خطرناک تاروں کونکالنے کا کام،مزیدوقت دینے سروس پرووائیڈرس کامطالبہ
حیدرآباد 20 اگست: حیدرآباد شہر میں ان دنوں ہر گھر میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے "کیا آپ کے گھر انٹرنیٹ آ رہا ہے؟ کیا کیبل کنکشن چل رہا ہے؟”۔ شہریوں کی شکایات اور جگہ جگہ کٹنے والی تاروں کے سبب انٹرنیٹ اور کیبل سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کسی بھی وقت کہاں کیبل کٹ ہو جائے گی، اس خدشے سے سروس پرووائیڈرس فکر مند ہیں۔پہلے ہی جیو اور ایئرٹیل جیسی بڑی کمپنیوں سے سخت مقابلہ درپیش ہے، ایسے میں مقامی سروس پرووائیڈرس اپنے کنکشنس کھونے کے خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے محکمہ بجلی سے مزید وقت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔حال ہی میں گنیش کی مورتی کو لے جانے کے دوران بجلی کے تاروں کو ہٹانے کے دوران کرنٹ لگنے سے نوجوانوں کی اموات کے بعد محکمہ بجلی کی جانب سے سڑکوں پرلٹکتے خطرناک تاروں کونکالنے کا کام شروع کیاگیا ہے۔اس پر
انٹرنیٹ اور کیبل پرووائیڈرس نے نائب وزیراعلیٰ بھٹی وکرامارکا اور ٹی جی پی ڈی سی ایل کے سی ایم ڈی مشرف فاروقی کو درخواست پیش کرتے ہوئے کرنٹ کے کھمبوں سے کیبل ہٹانے کے عمل کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حیدرآناد میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد آبادی کو درکار کیبلس کو اچانک ہٹا دینے سے شہریوں کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کمپنیوں نے وضاحت کی کہ پچھلے چھ ماہ سے الجھی ہوئی تاروں کو ہٹاتے ہوئے ایک ہی فائبر کے ذریعہ تمام خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سروس پرووائیڈرس نے مزید کہا کہ جدید ترین ٹکنالوجی کے ذریعہ عوام کو معیاری تفریح اور سہولتیں فراہم کرنے کی جدوجہد کی جا رہی ہے۔



