غزہ کی فضاء زہر آلود، غذائی اور دوائی قلت سے ہزاروں عوام موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا
آنکھوں دیکھا حال ڈاکٹر یوسف الدین شیخ اور ڈاکٹر محمد اسلم کی زبانی

غزہ کی فضاء زہر آلود، غذائی اور دوائی قلت سے ہزاروں عوام موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا
آنکھوں دیکھا حال ڈاکٹر یوسف الدین شیخ اور ڈاکٹر محمد اسلم کی زبانی
حیدرآباد۔24/اگست۔غزہ کے 75 فیصد علاقہ پر اسرائیل کا قبضہ ہوچکا ہے۔ 25 فیصد علاقہ بچا ہوا ہے تو محض بین الاقوامی برادری کے دباؤ کی بدولت۔ اس وقت اگرچہ کہ عالمی برادری کی ہمدردی غزہ کے بھوک سے بلکتے، تڑپتے اور دم توڑتے عوام کے ساتھ ہے اور وہ اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں اس کے باوجود اسرائیل کے وحشیانہ غیر انسانی سلوک میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ اب تو یہ حال ہے کہ بھوکے عوام کو غذائی امداد تقسیم کرنے کے بہانے بلایا جاتا ہے اور انہیں گولیوں کا شکار بنا دیا جاتا ہےجو زخمی حالت میں بچ جاتے ہیں ان کے علاج کے لئے نہ انفراسٹرکچر ہے اور نہ دوائیں ہیں۔ جو امداد بیرونی ممالک سے غزہ کے لئے بھیجی جارہی ہیں۔ اس کے سینکڑوں ٹرکس سرحد پر داخلے کے انتظار میں رکے ہوئے ہیں۔یہ انکشاف ڈاکٹر یوسف الدین شیخ اور ڈاکٹر محمد اسلم نے کیا۔ میڈیا پلس آڈیٹوریم میں ڈاکٹر یوسف الدین شیخ نے ڈاکٹرس اور میڈیاسے خطاب کیا اور ڈاکٹر اسلم نے جو ایک طویل عرصے تک غزہ میں زخمیوں کے علاج کے بعد امریکہ واپس ہوئے ہیں، وہاں سے زوم کے ذریعہ خطاب کیا۔ دونوں ہی ڈاکٹرس کا تعلق حیدرآباد سے ہے اور یہ دکن میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل ہیں۔ ڈاکٹر یوسف الدین شیخ آرتھو پیتھی سرجن ہیں اور یہ بھی لندن میں مقیم ہیں اور یہ بھی غزہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹر اسلم فزیشن ہیں۔ دونوں ہی کا تعلق ڈاکٹرس آف رحمن سے ہے جس کے ارکان غزہ کے علاوہ کئی اور ممالک میں انسانی بنیاد پر اپنی جان جوکھم میں ڈال کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر یوسف الدین شیخ نے بتایا کہ فلسطینی ڈاکٹرس بھی اور ان کے ارکان خاندان بھی نشانے پر ہیں اس کے باوجود ان کا جذبہ، ان کا پختہ ایمان مثالی ہے۔ دوسرے ممالک سے غزہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس بھی غذائی قلت کے شکار ہیں اور ان میں سے بیشتر کا وزن چند ماہ میں تیس تا چالیس کیلو کم ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلسل میزائل حملوں کی وجہ سے غزہ کی فضاء زہر آلود ہوچکی ہے۔ یہاں کام کرنا زندگی کا سب سے بڑا چیلنج ہے کیوں کہ 90 فیصد ہاسپٹلس تباہ کردیئے گئے جو باقی رہ گئے وہاں بجلی کی سربراہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جنریٹر س پر کام ہوتا ہے اور جب یہ کام نہیں کرتے تو کئی بار انتہائی پیچیدہ سرجریز سیل فون کی بیٹری کی روشنی میں کی گئی ہیں۔ طبی اشیاء اور آلات کی قلت کا یہ حال ہے کہ زخمیوں کے خون روکنے کے لئے کاٹن پیڈس تک نہیں ہیں۔ شدید ترین زخمی اور ایسے افراد جن کے اعضاء علاحدہ ہوگئے ہوں انہیں درد رفع کرنے کے لئے کوئی میڈیسن دستیاب نہیں، اکثر دھماکوں میں دھاتی ذرات سے لوگوں میں چالیس چالیس، پچاس پچاس زخم ہو جاتے ہیں، ان کا علاج بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ڈاکٹر محمد اسلم نے بتایا کہ غذائی قلت کی وجہ سے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ دس ڈالر کی شئے دو سو ڈالر میں ملتی ہے اور سرکاری سرپرستی میں اس قدر کرپشن ہے کہ غذائی امداد سے لدے ایک ٹرک کو غزہ کے اندر داخل ہونے کی اجازت دینے کے لئے تیس ہزار ڈالرس تک وصول کئے جاتے ہیں۔کئی بار ان ٹرکس کو لوٹ لیا بھی جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر پر بھی حملے ہوتے ہیں اور ان کے بھی والینٹرس اور عہدیدار ہلاک ہوئے ہیں۔ انسانیت کی پامالی کا اس سے بدتر اور کوئی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آسکتا۔ ڈاکٹر اسلم اور ڈاکٹر یوسف نے بتایا کہ ڈاکٹرس آف رحمن نے فلسطین کے میڈیکل اسٹوڈنس کو آن لائن کوچنگ کا انتظام بھی کیا ہے اور تین سو سے زائد میڈیکل اسٹوڈنٹس کو دنیا کے مختلف ممالک کے میڈیکل کالجس میں داخلے کا انتظام کروایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ میں اس طرح سے مقامی عوام کی ناکہ بندی کی گئی ہے کہ اس علاقے میں پیدا ہونے والے نوجوان بیس بائیس برس سے غزہ کے باہر قدم نہیں رکھ سکے، انہیں یہ نہیں معلوم کہ باہر کی دنیا کیسی ہوتی ہے۔ ان تکالیف، اذیتوں، بھوک اور زخموں، ہلاکتوں کے باوجود ان کی جرائت اور بہادری کا جذبہ قابل تعریف ہے۔ حالات چاہے کیسے بھی ہوں ۔ان کی عبادت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ ڈاکٹرس نے غزہ کے خلاف پابندیوں کے خاتمہ کے لئے عالمی برادری کے مزید موثر رول کی ضرورت پر زور دیا اور ان کے حق میں دعاء کی اپیل کی۔میڈیا پلس آڈیٹوریم میں اس پروگرام کا اہتمام ویسٹرن ہاسپٹل نے کیا تھا، اس موقع پر ڈاکٹر متین الدین سلیم، پالمونولوجسٹ، ڈاکٹر مصطفی فیصل یورو سرجن،ڈاکٹر عارف یورولوجسٹ، ڈاکٹر مرتضی سرجیکل آنکالوجسٹ، ڈاکٹر صفی اللہ ریڈیو لوجسٹ،ڈاکٹر حسینی میڈیکل ایڈمنسٹریٹر ویسٹرن ہاسپٹل، ڈاکٹر عاطف اسمعیل پالمونری کریٹیکل کیئر کے اسپیشلسٹ, ڈاکٹر مصطفٰی فیصل نیورو لوجسٹ و دیگر موجود تھے۔



