حبیب فاطمہ نگر قبرستان کا مسئلہ جوں کا توں — مسلمانوں میں بے چینی
بی آر ایس سینئر قائد محمد اعظم علی کی مقامی مسلمانوں سے ملاقات

حبیب فاطمہ نگر قبرستان کا مسئلہ جوں کا توں, مسلمانوں میں بے چینی
بی آر ایس کے سینئر قائد محمد اعظم علی کی مقامی مسلمانوں سے ملاقات
ریاستی حکومت سے فوری جی او جاری کرنے کا مطالبہ

بی آر ایس کے سینئر قائد محمد اعظم علی نے آج رحمت نگر ڈویژن کے سری رام نگر میں واقع مسجد حضرت سیدنا عمر فاروقؓ میں نمازِ جمعہ ادا کی۔ بعد ازاں انہوں نے مقامی مسلمانوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی۔ اس دوران مقامی عوام نے انہیں حبیب فاطمہ نگر قبرستان کے دیرینہ مسئلہ سے متعلق واقف کروایا۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد اعظم علی نے کہا کہ یہ مسئلہ کافی دنوں سے زیرِ التواء ہے۔ تلنگانہ میں جب بی آر ایس پارٹی برسرِاقتدار تھی تب اس وقت کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ اور وزیر کے ٹی راما راؤ عوامی مسائل پر بھرپور توجہ دیتے تھے اور تمام کام تیزی سے انجام دیے جاتے تھے۔ لیکن جب سے کانگریس پارٹی اقتدار میں آئی ہے، نہ صرف قبرستان کے مسئلہ کو نظرانداز کیا گیا بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایراہ گڈہ میں تعمیر ہونے والا ایک کمیونٹی ہال، جو کسی مذہب یا ملت سے مخصوص نہیں تھا بلکہ عوامی سہولت کے لیے بنایا جا رہا تھا اس کی تعمیر کو بھی روک دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس قبرستان کے مسئلہ پر بی آر ایس کے رکن اسمبلی آنجہانی ایم گوپی ناتھ عملی طور پر کام کر رہے تھے، لیکن کانگریس حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ تقریباً دس دن قبل اس علاقہ کے مسلمانوں کا ایک وفد بی آر ایس بھون پہنچا اور کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کر کے نمائندگی کی، جس پر کے ٹی آر نے اس مسئلہ کے حل کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم آج یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ کانگریس کی جانب سے اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ حبیب فاطمہ نگر قبرستان کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے فنکشن ہال میں جلسہ منعقد کیا جائے گا۔
محمد اعظم علی نے سوال اٹھایا کہ آخر مسلمانوں کے مسائل پر صرف اعلانات ہی کیوں کیے جا رہے ہیں؟ کیا ان کے مسائل کا حقیقی حل نکالنے میں کانگریس حکومت سنجیدہ نہیں؟ انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایک جی او جاری کرتے ہوئے حبیب فاطمہ نگر قبرستان کے مسئلہ کو حل کرنے کے اقدامات کریں۔
اس موقع پر محمد اعظم علی کے ہمراہ سابق کارپوریٹر محمد شفیع، بی آر ایس کے سینئر قائدین ایم اے معید خان، سید لائق علی، ارشد علی، کلیم بھائی، بشیر بھائی، احمد بھائی، یوسف صاحب، سلمان بھائی، افروز خان، کلیم، مہاراشٹرا کے بی آر ایس قائد محمد مجاہد کے علاوہ سری رام نگر کے اقلیتی قائدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔



