جوبلی ہلز میں قبرستان کےلئے اراضی کے الاٹمنٹ تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
کب تک مسلمانوں کو جھوٹ ‘فریب اور تیقنات سے بہلایاجائے گا۔محمداعظم علی کا استفسار

جوبلی ہلز میں قبرستان کےلئے اراضی کے الاٹمنٹ تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
معصوم مسلمانوں پر درج مقدمات سے فی الفور دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ
کیا جائز مطالبہ کےلئے احتجاج جرم ہے۔کانگریس کی مسلم دشمنی ایک بار پھر عیاں
کب تک مسلمانوں کو جھوٹ ‘فریب اور تیقنات سے بہلایاجائے گا۔محمداعظم علی کا استفسار
حیدرآباد: سینئر بی آرایس قائد محمداعظم علی نے کہاکہ کانگریس نے ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا اور پھر دھوکہ دیا۔فریب اور جھوٹ کانگریس کا وطیرہ رہاہے۔مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی سے کانگریس حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔صرف جھوٹے وعدے ‘اعلانات اور تیقنات کے ذریعہ وقت ضائع کیاجارہاہے۔صحافتی بیان میں محمداعظم علی نے کہاکہ جوبلی ہلز میں قبرستان کےلئے اراضی کی فراہمی کے معاملہ میں کانگریس پارٹی ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔مسلمانوں کے جائز مطالبات کی تکمیل کے بجائے انہیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے اور بے جا مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ محمداعظم علی نے کہاکہ جوبلی ہلز کے واقعہ نے ایک بار پھر کانگریس کے آمرانہ روےہ اور عوام دشمنی کو بے نقاب کردیاہے۔انہوںنے کہاکہ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے بورا بنڈہ میں مسجد توحید کے روبرو گزشتہ جمعہ کو نماز کے موقع پر قبرستان کےلئے اراضی کی فراہمی کے مطالبہ پر مسلمانوں نے پرامن احتجاج کیا تھا اور نعرے لگائے تھے۔محمداعظم علی نے کہاکہ مقامی مسلمانوں کاےہ ایک جائز مطالبہ اور بنیادی ضرورت ہے۔کانگریس حکومت نے جائز مطالبہ پر مبنی مسلمانوں کے احتجاج کے جمہوری حق کا احترام کرنے کے بجائے بے شرمی کا مظاہرہ کیا اور اپنے حق کےلئے آواز اٹھانے والے معصوم مسلمانوں کےخلاف مقدمات کا اندراج عمل میں لایا۔سینئر بی آرایس قائد نے استفسار کیاکہ کیا ریونت ریڈی کی حکومت میں قبرستان کےلئے زمین کا مطالبہ کرنا جرم ہے؟۔کیا کانگریس کے دورحکومت میں اقلیتوں کی آواز کو دبانے کےلئے پولیس کیسس کا سہارا لیاجائے گا؟محمداعظم علی نے کہاکہ مسلمانوںنے قبرستان کےلئے اراضی کے الاٹمنٹ کے خصوص میں پہلے ہی حکومت سے نمائندگی کی تھی۔اس حساس مسئلہ کی یکسوئی کے بجائے کانگریسی قائدین اپنے اثر ورسوخ کا بے جا اور غلط استعمال کررہے ہیں۔معصوم مسلمانوں کو ہراساں کیاجارہاہے۔ےہ متعصبانہ روےہ جمہوریت کی توہین ‘مسلمانوں کی دل آزاری اور انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کی صریح خلاف ورزی کے سوا کچھ نہیں ہے۔محمداعظم علی نے کہاکہ کانگریس پارٹی مسلمانوں کے جائز اور حقیقی مطالبات کی تکمیل سے بھی گریز کررہی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں برہمی پائی جاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں عوام کانگریس کو مناسب سبق سکھائیںگے۔محمداعظم علی نے مطالبہ کیاکہ مسلمانوں پر درج کردہ مقدمات سے فی الفور دستبرداری اختیار کی جائے اور قبرستان کےلئے اراضی کی فراہمی کو فی الفور یقینی بنایاجائے۔انہوںنے کہاکہ بی آرایس پارٹی عوامی مسائل کی یکسوئی کےلئے جانی جاتی ہے اور جوبلی ہلز کے عوام کے مطالبہ کی تکمیل تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور ہم عوام کے ساتھ کھڑے رہےںگے۔محمداعظم علی نے کہاکہ کانگریس نے جھوٹے وعدوں کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا اور اقتدار کے حصول کے بعد کسانوں ‘نوجوانوں ‘خواتین کو دھوکہ دیا اور اب جوبلی ہلز میں قبرستان کے حساس معاملہ میں بھی متعصبانہ روےہ کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔محمداعظم علی نے کہاکہ وہ اور بی آرایس کے اقلیتی قائدین نے گزشتہ کل رحمت نگر ڈویژن کے سری رام نگر میں واقع مسجد حضرت سیدنا عمر فاروقؓ میں نماز جمعہ ادا کی تھی اور مقامی مسلمانوں سے ملاقات کی تھی۔بعدنماز جمعہ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے محمداعظم علی نے دوٹوک الفاظ میں کہاتھاکہ کانگریس حکومت جوبلی ہلز میں مسلم قبرستان کےلئے فی الفور اراضی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔انہوںنے کہاکہ مقامی مسلمانوں کے مطالبہ کی تکمیل کےلئے بی آرایس پارٹی کے آواز اٹھانے کے بعد کانگریس پارٹی میں ہلچل پیدا ہوئی۔گزشتہ جمعہ کو قبرستان کے معاملہ میں احتجاج پر مسلمانوں کےخلاف کےسس بک کئے گئے اور جب اس معاملہ میں مسلمانوں میں برہمی پیدا ہوئی اور بی آرایس نے کانگریس حکومت کے روےہ کےخلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔تب کل بروز جمعہ ریاستی وزیر وویک ‘محمداظہر الدین ودیگر نے جوبلی ہلز کا دورہ کیا اورایک مقامی شادی خانہ میں اجلاس منعقد کیا۔ہمیشہ کی ہی طرح قبرستان کی اراضی کے معاملہ میں صرف تیقن دیاگیا۔واضح رہے کہ محمداعظم علی نے کل بعدنماز جمعہ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہاتھاکہ ریاستی وزیر کےلئے قبرستان کےلئے اراضی کا الاٹمنٹ کوئی بڑا معاملہ نہیں ہے۔قبرستان کی اراضی کےلئے فی الفور جی او جاری کیاجاناچاہئے۔تاہم ہمیشہ ہی کی طرح کانگریس قائدین نے مسلمانوں کو صرف بہلانے کی کوشش کی اور قبرستان کےلئے اراضی کے الاٹمنٹ کا محض تیقن دیا۔ےہ مقامی مسلمانوں کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے ۔اس کے باوجود کانگریس سنجیدہ نہیںہے۔مسلمانوں کے تئیں کانگریس کا مکروہ چہرہ پھر ایک بار عیاں ہوچکاہے۔محمداعظم علی نے کہاکہ جب تک جوبلی ہلز میں مسلم قبرستان کےلئے اراضی کا الاٹمنٹ عمل میں نہیں لایاجاتا۔مسلمانوں کے ساتھ تقاضائے انصاف کو ملحوظ نہیں رکھاجاتا ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔



