ہندوستان ؍ ملک کی خبریں

پان کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ کے باوجود، پیداوار میں شدید کمی،کسان لاگت بھی نکالنے سے قاصر

اے پی: پان کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ کے باوجود، پیداوار میں شدید کمی،کسان لاگت بھی نکالنے سے قاصر

حیدرآباد 20جنوری:  عام طور پر فصل کی قیمتوں میں اضافہ کسانوں کے لئے خوشحالی کی نوید لاتا ہے لیکن آندھرا پردیش کے ضلع نیلور میں پان کے کاشتکاروں کے لئے یہ اضافہ خوشی کے بجائے دکھ کا باعث بن گیا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلہ قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہونے کے باوجود، پیداوار میں شدید کمی کی وجہ سے کسان اپنی لاگت بھی نکالنے سے قاصر ہیں۔

پان، جو ہماری تہذیب میں کھانوں کے بعد ذائقہ اور پوجا پاٹھ کے لئے لازمی سمجھا جاتا ہے، اس وقت مارکٹ میں انتہائی مہنگا ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال تک پان کی 100 کٹیاں (ایک کٹی میں 170 سے 180 پتے) 2,000 سے 2,500 روپے میں فروخت ہوتی تھیں۔ اس سال یہی قیمت بڑھ کر 7,500 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ حالیہ سمندری طوفانوں (مانتھا اور دیگر) کے اثرات کے باعث نیلور، کڈپہ اور مشرقی گوداوری اضلاع میں فصل کی نشوونما بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پہلے جہاں فی ایکڑ 3,000 کٹیاں حاصل ہوتی تھیں، اب یہ کم ہو کر صرف 800 سے 1,200 کٹیاں رہ گئی ہیں۔

نیلور ضلع کے کووور اور ونجامور علاقوں سے پان حیدرآباد، چینئی، بنگلور، مہاراشٹر اور دہلی برآمد کیا جاتا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے تباہ شدہ باغات کی دوبارہ کاشت میں ابھی وقت لگے گا اور پیداوار آنے میں مزید چند ماہ درکار ہیں۔

کسان اس بات سے پریشان ہیں کہ جب تک ان کے نئے باغات سے بھرپور پیداوار شروع ہوگی، تب تک شاید قیمتیں دوبارہ گر جائیں گی۔ یوں قیمتوں کا حالیہ تاریخی اضافہ کاشتکاروں کو کوئی فائدہ پہنچائے بغیر گزر رہا ہے، اور وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button