بھیک مانگنے والوں کا مستقل حل نہ ہونے سے مسئلہ سنگین

حیدرآباد:بھیک مانگنے والوں کا مستقل حل نہ ہونے سے مسئلہ سنگین
حیدرآباد 22جنوری: حیدرآبادشہر کی خوبصورتی اور عالمی تقاریب کے موقع پر تو بھیک مانگنے والوں کو سڑکوں سے ہٹا کر عارضی مراکز میں منتقل کر دیا جاتا ہے لیکن مستقل حل نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ حیدرآباد میں بچوں سے بھیک منگوانے کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن بھیک فی الحال رک گیا ہے جس کی وجہ سے شہر کے اہم چوراہوں پر دوبارہ معصوم بچے نظر آنے لگے ہیں۔
گزشتہ سال محکمہ بہبودی خواتین و اطفال اور پولیس کے اشتراک سے شروع کی گئی مہم کے دوران تقریباً 900 بچوں کو ان کے والدین سمیت شہر کے مختلف علاقوں سے نچایاگیا۔ انہیں خصوصی بسوں کے ذریعہ گلبرگہ، بیلاری، رائے چور اور اننت پور جیسے اضلاع میں ان کے آبائی علاقوں کو بھیجا گیا تھا لیکن وہاں مناسب دیکھ بھال اور روزگار کی کمی کی وجہ سے یہ خاندان دوبارہ حیدرآباد کے مندروں، ریلوے اسٹیشنوں اور مصروف چوراہوں پر پہنچ گئے ہیں۔
حیدرآباد کے مصروف علاقوں جیسے جوبلی ہلز چیک پوسٹ، پیراڈائز سرکل، اور نامپلی میں یومیہ ہزاروں روپے کی کمائی کی لالچ میں بچوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔
زیادہ تر 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو منتخب کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کی جا سکے اور زیادہ پیسے مل سکیں۔
رپورٹ کے مطابق، بعض مجرما عناصر ان بچوں کو چوریوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ عثمانیہ اور گاندھی اسپتالوں میں ہونے والی چوریوں میں بھی غیر ریاستی بچوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
بچوں کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے پنجاب حکومت نے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے جسے حیدرآباد میں بھی نافذ کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
پنجاب میں پروجیکٹ جیون جوت2 کے تحت بھیک مانگنے والے بچوں اور ان کے ساتھ موجود سرپرستوں کا ڈی این اے ٹسٹ کرایا جا رہا ہے۔ اگر ٹسٹ میں یہ ثابت ہو جائے کہ بچے کا ان بڑوں کے ساتھ کوئی جینیاتی تعلق نہیں ہے تو اسے اغوا یا اسمگلنگ کا کیس مان کر سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف بچوں کو آبائی علاقوں میں بھیج دینا کافی نہیں ہے بلکہ ان کی تعلیم اور خاندان کی معاشی مدد کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر حیدرآباد میں بھی پنجاب کی طرز پر سخت قوانین اور ڈی این اے ٹسٹ جیسی سہولیات فراہم کی جائیں تو بچوں کے ساتھ ہونے والے اس گھناؤنے کاروبار کو روکا جا سکتا ہے۔



