تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

کانگریس کا محبت کی دکان کے نام پر نفرت کا پرچار

اقلیتوں سے کئے گئے تما م وعدے نظر انداز۔تلنگانہ بھون میں مولانا آزاد کی یوم پیدائش تقریب۔

کانگریس کا محبت کی دکان کے نام پر نفرت کا پرچار
اقلیتوں سے کئے گئے تما م وعدے نظر انداز۔تلنگانہ بھون میں مولانا آزاد کی یوم پیدائش تقریب۔
کارگزار صدر بی آرایس کے ٹی آر اور سابق وزیر داخلہ محمد محمود علی کا خطاب

حیدرآباد۔11نومبر(آداب تلنگانہ نیوز)کارگزار صدر بی آرایس ورکن اسمبلی سرسلہ کے تارک راماراﺅ نے آج کہاکہ کانگریس قائدین جنہوںنے محبت کی دکان کھولنے کا دعویٰ کیاہے اب پارٹی کے وعدوں پر عمل آوری میں ناکام ہونے کے بعدعوام کی توجہ ہٹانے کےلئے نفرت کو پھیلارہے ہیں۔انہوںنے تلنگانہ میں اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل پر کانگریس حکومت کو شدید ہدف تنقید بنایا اور کہاکہ کانگریس اقلیتوں کی ترقی اور فلاح وبہبود کی چمپئن ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تاہم فی الواقعی کانگریس نے اقلیتوں کو ہمیشہ سے ہی مایوس کیاہے۔بھارت رتن وملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر تلنگانہ بھون میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ کانگریس خود کو محبت کی دکان کہتی ہے جبکہ وہ منافرت سے بھری ہوئی ہے۔تقریب میں کے ٹی آر نے غریب مسلم طلبہ میں اسٹیڈی مٹیریل کی تقسیم عمل میں لائی۔سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے ماقبل انتخابات چھ ضمانتوں کا وعدہ کیاتھا تاہم اقتدارپر فائز ہونے کے بعد ایک بھی ضمانت کو پورا نہیں کیاگیاہے۔انہوںنے کہاکہ کانگریس حکومت نے تمام طبقات کو بالکلےہ طور پر نظر انداز کردیاہے۔

کے ٹی آر نے دریائے موسیٰ کی بحالی کے پروجیکٹ کے تحت 16ہزار مکانات کو منہدم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے غریبوں پر ایک کھلے حملہ سے تعبیر کیا۔انہوںنے کانگریس حکومت کی جانب سے اقلیتی اعلامےہ کو نافذ نہ کرنے پر بھی استفسار کیا اور مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کا تفصیلی تذکرہ کیا۔کے ٹی آر نے چھ ماہ میں اقلیتی آبادی کی مردم شماری ‘ملازمتوں میں تحفظات ‘4ہزار کروڑروپئے کا مائناریٹی سب پلان‘اقلیتوں کو روزگار کےلئے قرضہ جات کے خصوص میں ایک ہزا رکروڑروپئے کی فراہمی جیسے وعدوں پر عدم عمل آوری پر کانگریس حکومت سے استفسار کیا۔انہوںنے کہاکہ آج تک حتیٰ کہ ایک لاکھ روپئے کی بھی تقسیم عمل میں نہیں لائی گئی۔کے ٹی آر نے کہاکہ کانگریس نے اسکالرشپ ‘امکنہ امداد‘ائمہ وموذنین کے اعزازےہ میں اضافہ کاو عدہ کیا تاہم آج تک ےہ وعدے بھی پورے نہیں کئے ہیں۔بی آرایس سربراہ وسابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راﺅ کی قیادت میں گزشتہ بی آرایس حکومت کی شاندار کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آرنے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تئیں بی آرایس کی اٹوٹ وابستگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔کے ٹی آر نے کہاکہ بی آرایس کے دورحکومت میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیاگیا۔ بی آرایس کا دورحکومت فرقہ وارانہ فسادات اور کرفیو سے پاک رہا۔انہوںنے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی اور کہاکہ کانگریس کے برسر اقتدار آتے ہی فرقہ وارانہ فسادات کا دوردوبارہ شروع ہوگیاہے۔

تہواروں کے موقع پر دفعہ 144نافذ کیاجارہاہے۔کے ٹی آرنے کہاکہ کے سی آر حکومت نے فی الواقعی سب کی ترقی کےلئے نمایاں خدمات انجام دیں۔تمام طبقات کو ترقی کے مواقع فراہم کئے۔انہوںنے کہاکہ بی آرایس پارٹی نے ایک مسلم قائد کو ڈپٹی چیف منسٹر مقررکیا اور جی ایچ ایم سی میں ڈپٹی میئر کا عہدہ مسلمان کو دیاگیا۔انہوںنے کہاکہ بی آرایس کے دورحکومت میں تما م طبقات کی فلاح وبہبود کو یقینی بنانے کےلئے متعددفلاحی اسکیمات پر موثر عمل کیاگیا۔بتکماں ساڑیوں کی تقسیم سے لے کر رمضان اور کرسمس کے موقع پر تحائف کی تقسیم تک چندرشیکھرراﺅ نے نمایا ں خدمات انجام دیں۔ہمیشہ غریبوں کی فلاح وبہبود کو مقدم رکھا۔کے ٹی آر نے کہاکہ اقلیتی طلبا وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ وپیراستہ کرنے کےلئے ریاست بھر میں زائد از 200اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایاگیا۔اس وقت تقریباًایک لاکھ چالیس ہزار طلبہ قیام وطعام کے ساتھ مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔بی آرایس کے دورحکومت میں فی طالب علم پر 1لاکھ 20ہزار روپئے سالانہ صرف کئے گئے۔انہوںنے کہاکہ یتیم ویسیر بچوں کےلئے 39کروڑروپئے کی لاگت سے انیس الغرباءکی عظیم الشان عمارت تعمیر کی گئی۔درگاہ حضرات جہانگیر پیراں ؒ اور مکہ مسجد کی تزئین نو کےلئے خطیر رقم صرف کی گئی۔غریب اقلیتی طلبا وطالبات کو بیرون ممالک کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کےلئے اوورسیز اسکالرشپ کی فراہمی عمل میں لائی گئی۔انہوںنے کہاکہ بی آرایس نے شادی مبارک اسکیم‘ائمہ وموذنین کو ماہانہ وظائف کی تقسیم کے بشمول اقلیتی فلاح وبہبود پر 10ہزار کروڑروپئے صرف کئے۔

کے ٹی آر نے عوام پر زوردیاکہ وہ منافرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کردیںاورجامع ترقی کےلئے بی آرایس کی تائید وحمایت کریں۔کے ٹی آر نے مولانا آزاد کی خدمات کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے مولانا آزاد نے قوم کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار اداکیا۔محمد محمود علی سابق وزیر داخلہ ورکن قانون ساز کونسل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابواکلام آزاد کی تعلیمی خدمات کو خراج پیش کیا۔انہوںنے کہاکہ مولانا آزاد کا شمار دنیا کی عظیم شخصیتوں میں ہوتاہے ۔وہ عظیم مفکر ‘بلند پایہ صحافی‘سیاستداں‘عالم دین‘مفسر قرآن تھے۔ملک کا نظام تعلیم مولانا آزاد کی دین ہے۔ملک وقوم کےلئے مولانا آزاد کی خدمات کو ہرگز فراموش نہیں کیاجاسکتا۔قبل ازیں تقریب کا آغاز قرا¿ت کلام پاک سے ہوا ۔ اس موقع پر سابق اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی وقائد اپوزیشن قانون ساز کونسل مدھو سدن چاری ‘داسوجو سراون ‘بی آرایس کے اقلیتی قائدین محمد فصیح الدین‘محمدسلیم‘امتیاز اسحاق‘خواجہ بدرالدین‘محمد کلیم‘ارشد نواب‘محمدعبدالباسط ‘عبداللہ سہیل اور دوسرے موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button