اولادکے ساتھ ساتھ والدین کا بھی علم دین سیکھنا ضروری
تنظیم المکاتب بنڈلہ گوڑہ کے زیر اہتمام دوسرا سالانہ جلسہ ،مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ و دیگر علماءکا خطاب

حیدرآباد۔11نومبر (آداب تلنگانہ نیوز)موجودہ دور میں جہاں بچوں کے لیے مکاتب کا قیام اور ان کی دینی تعلیم کا نظم کرنا جتنا ضروری ہے اتنا ہی والدین کو بھی دین سیکھنا ضروری ہے۔ والدین ہی جب دین اور علومِ دین سے دور رہیں گے تو پھر بچوں کی صحیح طور پر دینی تربیت نہیں کرسکتے اور کون کب کس فتنے کا شکار ہوجائے والدین اس سے بالکل لاعلم رہیں گے اور وہ تو سمجھتے ہی رہیں گے کہ بچہ تو ہمارا دیندار ہے وغیرہ۔
ان خیالات کا اظہار حضرت مولانا حسام الدین ثانی عاقل جعفرپاشاہ امیر ملت اسلامیہ نے ایس کے فنکشن ہال بنڈلہ گوڑہ چوراہا میں تنظیم المکاتب بنڈلہ گوڑہ کے سالانہ جلسہ عام و تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔مولانا نے کہا کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے اگر ایسے فتنوں کے دور میں ہمیں دینی علوم اور اسلامی عقائد سے واقفیت نہ ہوگی تو پھر ہم نہ صرف جاہل رہیں گے بلکہ عین ممکن ہے کہ ان فتنوں کا شکار ہوکر اپنے دین وایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
اسی لیے والدین کو بھی دینی علوم سے آشنا ہونا نہایت ضروری ہے۔ مولانا نے کہا کہ سیکھنے سکھانے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی‘ہمیں بلا تکلف اس پر پہل کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا نے اپنے تفصیلی خطاب میں مکاتب کے قیام اور اس کے استحکام پر خصوصی توجہ دلائی اور تنظیم المکاتب کے ذمہ داران کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کی بنڈلہ گوڑہ زون میں جاری گراں قدر خدمات کو سراہا۔ مولانا کے خطاب کے قبل مولانا ناصر احمد نے بھی اپنے مفصل خطاب میں انبیاءکرام اور سلف صالحین کے متعدد واقعات کے حوالے سے دینی تعلیم اور بچوں کی اسلامی تربیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
پروگرام کے روحِ رواں مولانا غیاث الدین حسامی صدر تنظیم المکاتب بنڈلہ گوڑہ نے ادارہ کا تعارف اور اس کی خدمات کو پیش کیا۔ مولانا حسامی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں تنظیم المکاتب کے قیام اور اس کی خدمات اور کارگزاری سناتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں غیروں کے بے ہودہ تعلیمات اور عیسائی مشنریز کے باطل نظریات سے امت کے نو نہالوں کو بچانے اور اسلامی عقائد کو ان کے دل و دماغ میں بٹھادینے کی غرض سے مکاتب کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ مولانا حسامی نے کہا کہ اس دور میں مکاتب کے ذریعہ بچوں کی اسلامی تربیت کی جاسکتی ہے اور ہماری نسلوں کو فتنوں سے محفوظ و چوکنا رکھا جاسکتا ہے۔
مولانا حسامی نے بتلایا کہ تنظیم المکاتب کا قیام فروری 2022 میں عمل میں آیا۔الحمدللہ اس وقت اس ادارہ کے تحت بنڈلہ گوڑہ زون میں 19مکاتب قائم کیے گئے ہیں۔ ان مکاتب سے تقریباً 500 بچے زیور علم سے آراستہ ہورہے ہیں۔ ان مکاتب کے لیے ماہانہ 66ہزار روپے کا خرچ ہورہا ہے۔
اور یہ خرچ اللہ تعالی کے فضل و کرم اور اہلِ خیر حضرات کے گراں قدر تعاون کے ذریعہ پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ مولانا نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ اس دور میں اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے اسلامی تشخص اور شعائر کی حفاظت ہو تو ہمیں پھر ان مکاتب اسلامیہ کے نظام و استحکام کے سلسلہ میں کمربستہ ہوجانے اور اپنے سرمایہ کو ملت کے ان نو نہالوں پر خرچ کرنے کے لیے آگے آنے کی ضرورت ہے۔ مولانا نے آنے والوں تمام مہمانوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ان مکاتب میں حال ہی میں منعقد ہوئے امتحانات میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔
یہاں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ تنظیم المکاتب بنڈلہ گوڑہ کے تحت یہ دوسرا عظیم الشان سالانہ جلسہ بعنوان ” دینی مکاتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت “ حضرت مولانا مفتی عبدالرحمن ماجد صاحب اسعدی دامت برکاتہم کی زیر نگرانی اور حضرت مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشا صاحب دامت برکاتہم جانشین علامہ عاقل امیر ملت اسلامیہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔
حضرت مولانا ابرار الحق شاکر صاحب قاسمی صدر تحفظ ختم نبوت حلقہ بنڈلہ گوڑہ ، ڈاکٹر محمد نظام الدین صاحب صدر ملیّ کونسل تلنگانہ نے بہ حیثیت مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی۔مولانا ابراہیم خلیل سبیلی صاحب نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ عوام و خواص کے علاوہ مقامی قائدین و عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہوئے اس جلسہ کو بے حد کامیابی سے ہمکنار کیا۔ مولانا جعفر پاشاہ کی دعاءپر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔
Importance of Learning Religious Knowledge for Parents and Children



