تلنگانہ میں موسلا دھار بارش، نچلے علاقے زیر آب ،فصلوں کونقصان،کئی دیہاتوں کا رابطہ ٹوٹ گیا

تلنگانہ میں موسلا دھار بارش، نچلے علاقے زیر آب ،فصلوں کونقصان،کئی دیہاتوں کا رابطہ ٹوٹ گیا
حیدرآباد 14اگست: حیدرآباد سمیت ریاست تلنگانہ کے بیشتر اضلاع میں بدھ کی رات سے شروع موسلا دھار بارش کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا، جس سے نچلے علاقے زیر آب آ گئے ۔ محبوب نگر ضلع میں دیویٹی پلی کے قریب آئی ٹی پارک جانے والی سڑک کا ایک حصہ بہہ گیا، جس میں ایک کمپنی کی بس پھنس گئی تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جڑچرلہ میں نلّاکنٹہ تالاب لبریز ہونے سے قومی شاہراہ پر ٹریفک جام ہو گیا۔ ناراین پیٹ ضلع میں کوسگی تا دولت آباد راستہ پانی کے تیز بہاؤ کے سبب بند کر دیا گیا، جبکہ مکتھل منڈل میں کرنی تالاب کی سطح میں اضافہ پر آمد و رفت روک دی گئی۔
منچریال ضلع کے کنّی پلی میں ریاست میں سب سے زیادہ 23.5 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جس سے 3,436 ایکڑ پر کھڑی دھان اور کپاس کی فصلیں متاثر ہوئیں اور 2,138 کسان نقصان کا شکار ہوئے۔ ضلع کلکٹر کمار دیپک نے آج تمام سرکاری و خانگی تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا اور بتایا کہ محکمہ جات ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے چوکس ہیں۔سنگاریڈی ضلع میں سنگور پروجیکٹ میں پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا، جہاں ریزروائر میں 22.314 ٹی ایم سی فٹ پانی جمع ہو چکا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت 11واں دروازہ کھول کر 7,694 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے، جب کہ بجلی پیداوار اور نہری آب رسانی کیلئے بھی پانی جاری ہے۔
کومرم بھیم ضلع میں کومرم بھیم پروجیکٹ میں 8,522 کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ ہوا، تین دروازے کھول کر 9,312 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ حکام نے نشیبی علاقوں کے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ بارش کے باعث ضلع کے قدرتی آبشاروں پر پانی کا زور بڑھ گیا اور سیاحوں کا ہجوم دیکھنے میں آیا، جس پر پولیس اور محکمہ جنگلات کے اہلکار تعینات کئے گئے۔متحدہ رنگاریڈی، عادل آباد ، کھمم، نلگنڈہ اور سوریا پیٹ اضلاع میں بھی بارش کے سبب کئی دیہاتوں کا رابطہ ٹوٹ گیا، نشیبی کالونیاں زیر آب آ گئیں، اسکولوں میں چھٹی دے دی گئی اور کنٹرول روم قائم کر کے حالات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ تین دنوں تک ریاست کے کئی حصوں میں شدید سے شدید تر بارش کی پیش گوئی کی ہے۔



