اے پی میں یومِ آزادی کے موقع پر خواتین کے لیے آرٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت کا آغاز

اے پی میں یومِ آزادی کے موقع پر خواتین کے لیے آرٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت کا آغاز
حیدرآباد 14اگست: آندھرا پردیش حکومت نے ریاست بھر میں خواتین کے لیے سفری آزادی اور مالی سہولت فراہم کرنے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے اعلان کیا ہے کہ 15 اگست 2025 سے ’’اسٹری شکتی‘‘ نامی اسکیم کے تحت آندھرا پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں میں خواتین اورلڑکیوں کو مکمل طور پر مفت سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اس اسکیم کے تحت ابتدائی مرحلہ میں کارپوریشن کی 6,700 بسیں شامل کی جا رہی ہیں جو کہ مجموعی بیڑے کا تقریباً 74 فیصد حصہ ہیں۔ ان بسوں میں اندرونِ شہر، اندرونِ ضلع اور بین ضلعی روٹس شامل ہوں گے تاکہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ علاقوں تک مفت اور محفوظ سفر کی سہولت دی جا سکے۔ اسکیم کا افتتاح وجے واڑہ کے پنڈت نہرو بس اسٹیشن سے کیا جائے گا جو ریاست کا سب سے مصروف ٹرانسپورٹ مرکز ہے۔وزیر اعلیٰ نے ٹرانسپورٹ حکام کو ہدایت دی ہے کہ یومِ آزادی کے اور اس کے بعد مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی بسیں چلائی جائیں۔ بس ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ مسافروں کے ساتھ مہذب، معاون اور احترام پر مبنی رویہ اختیار کریں۔
ریاست میں خواتین کی ایک بڑی تعداد روزانہ تعلیم، ملازمت، صحت کی خدمات اور دیگر ضروریات کے لیے سفر کرتی ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں میں سفری اخراجات اکثر گھریلو بجٹ پر بوجھ بنتے ہیں ۔ ’’اسٹری شکتی‘‘ اسکیم اس مالی دباؤ کو کم کرے گی، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں کی خواتین کے لیے جہاں نجی ٹرانسپورٹ مہنگی یا ناقابلِ رسائی ہے۔کالج اور اسکول جانے والی لڑکیوں کے لیے آمد و رفت کی رکاوٹ کم ہو گی، جس سے ترک تعلیم کے رجحان میں کمی متوقع ہے۔
کم آمدنی والی خواتین کو روزگار کے بہتر مواقع تک رسائی ملے گی کیونکہ سفر کا خرچ ختم ہو جائے گا۔ اس سے خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت کا ماحول پیدا ہو گا، جس سے ان کا اعتماد بڑھے گا۔ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے بسوں کی فریکوئنسی بڑھانا، رات کے اوقات میں روشنی اور سیکیورٹی کی فراہمی اور شہری و دیہی روٹس پر بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانا ضروری ہو گا۔
اعلان کے فوراً بعد ہی شہری اور دیہی علاقوں میں اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اسے یومِ آزادی پر خواتین کو حقیقی معنوں میں ’’سفری آزادی‘‘ دینے کا قدم قرار دیا۔یہ اسکیم بظاہر صرف مفت سفر کی سہولت لگتی ہے لیکن اس کے اثرات خواتین کی معاشرتی حیثیت، مالی خودمختاری اور ریاست کی معاشی سرگرمیوں پر طویل المدتی بنیادوں پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



