تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

جناب غیاث الدین بابو خان کے انتقال پر حامد محمد خان کا اظہار تعزیت

 

یہ خبر ہم پر بجلی بن کر گری کہ جناب غیاث الدین بابو خان صاحب ولد جناب عبدالکریم بابو خان مرحوم (عمر 83 سال) کا انتقال ہو گیا غیاث الدین بابو خان صاحب ایک کامیاب تاجر ایک کامیاب بلڈر بابو خان اسٹیٹ اور ڈ*** ٹاورز کی بنیاد رکھنے والے اور حیدراباد میں ہیت رائز بلڈنگز کا تصور دینے والے ایک کامیاب منتظم تھے اور اللہ نے ان کو جہاں دولت سے نوازا وہیں پر دل کی دولت سے بھی نوازا تھا دولت تو بہت سے لوگوں کے پاس ہوتی ہے لیکن اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا دل نہیں ہوتا میرا تعارف اور تعلق محترم ریاس الدین بابو خان صاحب سے 1988 سے رہا ان 199 کی رمضان میں تراویح کی نماز کے بعد سحری تک ان سے گفتگو رہی اور زکوۃ کے بعض مسائل پر انہیں خلجان تھا میں اور موجودہ امیر حلقہ اور اس وقت کے شہر کے صدر یس آئ او جناب محمد اظہر الدین صاحب تفہیم القران کا انگریزی ترجمہ لے گئے اور کافی دیر تک گفتگو رہی جماعت کے قیام اور سرگرمیوں ایس ائی او کے سرگرمیوں کے سلسلے میں بڑی تفصیلی معلومات انہوں نے حاصل کی اور اس کے بعد ایس ائی او کو ایک عطیہ خطیر رقم کا عطیہ دیا میری معلومات کی حد تک وہ ایس ائی او کی تاریخ کا سب سے بڑا عطیہ تھا
پھر اس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا ہر سال ایس ائی او گرمائی تعطیلات میں نوجوانوں کی تربیت کے لیے اور خاص طور پر دیہات کے رہنے والے نوجوانوں کے لیے تربیتی کیمپ رکھا کرتی تھی جس میں عملی نماز، عملی طور پر تجہیز و تکفین کا طریقہ اور دینی تربیت دی جاتی تھی جب اس کا ذکر محترم مرحوم سے کیا گیا تو انہوں نے اسی وقت ان پانچ چھ کیمپس کا خرچ اپنے ذمہ لیا اور پھر ان کیمپوں کے اختتامی پروگرام میں بھی شریک رہے ہیں جب میں اسلامی معاشرے کا سیکرٹری اور معاون امیر حلقہ تھا تو میں نے ضلع کھمم میں تدریب الائمہ کا پروگرام رکھا جس میں دیہات کے تعلیم یافتہ نوجوان اور انٹر یا دسویں جماعت کے وہ نوجوان جو تعلیم ترک کر دیے ہیں ان کا انتخاب کیا گیا اور تین ماہ کا کورس جس میں ایک امام کو اور پھر گاؤں کے دینی ضروریات کی تکمیل کے لیے ایک دینی شخصیت کو تیار کیا گیا اس وقت بھی محترم غیاث الدین بابو خان صاحب نے تدریب الائمہ کے پورے پروگرامز کے خود ا کر مشاہدہ کیا اور مکمل مالی تعاون کیا اور اختتامی جلسے میں شرکت فرما کر بچوں کی صلاحیت دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور کئی دیہاتوں میں ان بچوں کو امام بھی مقرر کیا گیا اور ان کی کفالت بھی کی گئی ✅ 1990 میں حیدراباد میں جو بڑا فساد ہوا اس میں ایک لاری بھر کر اپنے گھر سے کٹس لے کر ائے اور اس کٹ میں چاول دالیں ، شکر، پتی ، موم بتی اور ضروریات کی تمام چیزیں ایک جگہ کی گئی تھیں اور اس طرح کٹس کا یہ تصور پہلی مرتبہ میں نے مرحوم سے دیکھا اور سیکھا ، یہ سارے کٹس گھر کے بچوں اور خواتین نے تیار کیے تھے ✅ انہوں نے حیدراباد زکوۃ چیریٹیبل ٹرسٹ اور فیڈ جیسے اداروں کو قائم کیا جس کے ذریعے ٹیلنٹ سرچ کیا گیا غریب اور نادار یتیم بچوں کی امداد کی گئی تعلیمی وظائف جاری کیے گئے جس سے ہزاروں بچے مستفیض ہوئے ✅ نوجوان بیواؤں کے لیے اسکیم بنائی گئی اور ان کے لیے وظائف جاری کیے گئے ✅ حیدراباد کے قریب وقار آباد ضلع میں تقریبا ایک سو ایکر زمین پر انسٹیٹیوٹ اف ایکسیلنس قائم کیا گیا جس میں نادار اور خاص طور پر یتیم بچوں کی تعلیم کو مفت رکھا گیا جس سے اب تک ہزاروں بچے فائدہ اٹھا کر اعلی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے اور کتنی باتیں ہیں اور خاص طور پر جماعت اسلامی ہند سے ایس ائی او سے جو ان کا تعلق رہا اور مختلف موقعوں پر انہوں نے جو تعاون کیا اس کی فہرست بہت طویل ہے اس مختصر تعزیتی پیغام میں اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا دنیا میں بہت سے لوگ اتے ہیں اور دنیا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں لیکن غیاث ا لدین بابو خان جیسے لوگ دنیا میں ائے اور انہوں نے دنیا کو سنوارا وہ عام انسانوں کا دل نہیں بلکہ غریبوں کے لیے امت کے لیے انسانیت کے لیے تڑپتا ہوا دل اپنے سینے میں رکھتے تھے
اللہ تعالی مرحوم غیاث الدین بابو خان صاحب کی بھرپور مغفرت فرمائے، کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، قبر کو نور سے منور فرمائے، اگے کی منزلوں کو اسان فرمائے ان کے تمام حسنات کو شرف قبولیت بخشے
اور ملک اور ملت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اللہ تعالی ان کے تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے
امین ثم امین یا رب العالمین
خاکسار

متعلقہ مضامین

Back to top button