موسلادھار بارش کے باعث کئی برقی سب اسٹیشنس زیر آب
مختصر وقت میں برقی کی بحالی عملہ کی انتھک محنت اور فرض شناسی کا نتیجہ:مشرف علی فاروقی

موسلادھار بارش کے باعث کئی برقی سب اسٹیشنس زیر آب
بڑے پیمانے پر نقصانات ۔مختلف مقامات پر1357پولس اکھڑ گئے, مختصر وقت میں برقی کی بحالی عملہ کی انتھک محنت اور فرض شناسی کا نتیجہ:مشرف علی فاروقی
حیدرآباد۔28اگست(آداب تلنگانہ نیوز)تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں موسلادھار بارش کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور انفرااسٹرکچر کونقصان پہنچا۔تالاب ‘جھیلیں اور دریا لبریز ہوگئے۔کئی 33/11کے وی سب اسٹیشنس زیر آب آگئے۔ناردن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی آف تلنگانہ لمیٹیڈ کے صدرنشین ومنیجنگ ڈائریکٹر مشرف علی فاروقی آئی اے ایس نے کہاکہ محکمہ برقی کا عملہ جانفشانی کے ساتھ جنگی پیمانے پربحالی کے کام انجام دے رہاہے۔برقی عملہ شدید بارش اور سیلاب کاسامنا کرتے ہوئے نہ صرف برقی پولس پر چڑ ھکر مرمتی کام انجام دے رہاہے بلکہ دریاﺅں کو تیر کر عبور کرتے ہوئے بھی مختلف مقامات پر مرمت کے کام انجام دے رہاہے۔شدید بارش اور سیلاب سے ساﺅتھرن ڈسکام حدود میں 1357برقی کھمبے تباہ ہوگئے۔280ٹرانسفارمرس کو نقصان پہنچا۔39فیڈرس (33کے وی) ‘296فیڈرس(11کے وی )کو نقصانپہنچا۔میدک ضلع میں سب سے زیادہ نقصانات ہوئے۔ جہاں 971برقی پولس ‘262ٹرانسفارمرس ‘175فیڈرس (11کے وی)اور 11فیڈرس (33کے وی)کو نقصان پہنچا۔کئی سب اسٹیشنس میں پانی داخل ہوجانے کی وجہ سے برقی کی سربراہی منقطع ہوگئی۔علاوہ ازیں نلگنڈہ ‘گدوال ‘یادادری ‘سنگاریڈی اور نارائن پیٹ اضلاع سے بھی نقصانا ت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ چیف انجینئر رورل زون بالا سوامی نے بتایاکہ بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔نقصانا ت میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے۔میدک ضلع کے 15دیہات میں برقی سربراہی مسدود ہوگئی تھی۔تاہم عملہ نے شب وروز سخت محنت کے ذریعہ چہارشنبہ کی رات 10بجے تک برقی سربراہی کی بحالی کو یقینی بنایا۔باقی دیہاتوں میں شدید بارش اور تباہ حال سڑکوں کے باعث برقی کی بحالی کاعمل تعطل کاشکار رہا۔راجی پیٹ گاﺅں میں برقی عملہ دریا کے پانی میں اتر کر فیڈر کی مرمت میں کامیاب رہا اور یہاں برقی کی بحالی عمل میں آئی۔ سید علی مشرف فاروقی نے کہاکہ مختصر وقت میں برقی کی بحالی عملہ کی انتھک محنت اور فرض شناسی کا نتیجہ ہے۔انہوںنے کہاکہ برقی کی بحالی کے کاموں کی انجام دہی کے دوران عملہ کی قیمتی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔



