تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

ریاستی حکومت انتقامی سیاست پر عمل پیرا, کالیشورم پروجیکٹ کو بدنام کرنے کے لئے منظم سازشیں

تلنگانہ میں دوبارہ گلابی پرچم لہرائے گا۔ محمد اعظم علی کی پریس کانفرنس

ریاستی حکومت انتقامی سیاست پر عمل پیرا
بی آر ایس کو نشانہ بنانے کے لئے کانگریس اور بی جے پی میں ساز باز
کالیشورم پروجیکٹ کو بدنام کرنے کے لئے منظم سازشیں
ریاست دوبارہ پسماندگی کا شکار۔تمام طبقات پریشان۔
تلنگانہ میں دوبارہ گلابی پرچم لہرائے گا۔ محمد اعظم علی کی پریس کانفرنس

سینئر بی آر ایس قائد محمد اعظم علی نےکہا کہ تلنگانہ کے حصول کی جدوجہد میں قائد تحریک کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کا کردار تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔وہ تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ محمد اعظم علی
نے کہا کہ اگرچہ چنا ریڈی نے علیحدہ ریاست کے لئے تحریک چلائی تھی لیکن کانگریس نے اس کو دبا دیا۔ بعد ازاں سال 2001 میں کے سی آر نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) قائم کی اور ایک عظیم تحریک کا آغاز کیا، جو مسلسل 14 برس جاری رہی اور بالآخر تلنگانہ ریاست وجود میں آئی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2004 میں ٹی آر ایس سے اتحاد کے ساتھ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی کو وزیراعلیٰ کے عہدہ پر فائز کیا، لیکن بعد میں کانگریس نے ٹی آر ایس کو ہی ختم کرنے کی کوشش کی۔ متحدہ ریاست میں تلنگانہ کے عوام کے ساتھ ناانصافیاں عروج پر تھیں، اسی وجہ سے کے سی آر نے تحریک شروع کی تاکہ علیحدہ ریاست قائم کرکے عوام کو انصاف دلایا جائے۔
محمد اعظم علی نے کہا کہ اس تحریک کے دوران کے سی آر نے بے شمار مشکلات کا سامنا کیا اور کئی قربانیاں دیں ۔سال 2009 میں کے سی آر نےگیارہ روز تک بھوک ہڑتال منظم کی اور کبھی اپنے خاندان کے بارے میں نہیں سوچا بلکہ ہمیشہ ریاست اور عوام کو مقدم رکھا۔ آخرکار اس وقت کے مرکزی وزیر چدمبرم نے اعلان کیا کہ علیحدہ ریاست کے قیام کے لئے اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب ریاست تلنگانہ وجود میں آئی تو تمام شعبہ جات کی حالت انتہائی ابتر تھی لیکن پہلے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کے سی آر نے ریاست کی ترقی کے لئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ کے سی ار کی مدبرانہ قیادت کے باعث تمام شعبہ جات ترقی کی سمت رواں دواں ہوئے۔کسانوں کو برقی اور پانی کی سہولت فراہم کی گئی، اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے مثالی اقدامات کئے گئے، گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا گیا اور ریاست میں امن و امان قائم کیا گیا۔ ان کے دور میں ایک بھی فرقہ وارانہ فساد رونما ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجیکٹ ایشیا کاسب سے بڑا لفٹ ایریگیشن پراجیکٹ مانا جاتا ہے ۔ جس کی تعمیر بھی کے سی آر کے دور میں عمل میں آئی۔ آج اسی پراجیکٹ کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اس پروجیکٹ کے نام پر بی آر ایس کو نشانہ بنانے سی بی آئی تحقیقات کروانے کے درپے ہیں۔
محمد اعظم علی نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی ،وزیراعظم نریندر مودی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بی جے پی کی طرز پر اپوزیشن کو ہراساں کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ راہول گاندھی خود کہتے ہیں کہ ای ڈی، سی بی آئی اور آئی ٹی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، یہ صرف اپوزیشن کو ٹارگٹ کرتی ہیں لیکن تلنگانہ میں ان ہی حربوں کو ریونت ریڈی اپنا رہے ہیں اور کے سی آر، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو ہراساں کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی ، مودی کو کئی مرتبہ اپنا "بڑا بھائی” کہہ چکے ہیں اور خود یہ بھی اعتراف کیا کہ ان کی اسکولنگ آر ایس ایس میں ہوئی، کالجنگ تلگو دیشم میں اور نوکری کانگریس میں کررہے ہیں۔ اعظم علی نے ریونت ریڈی سے استفسار کیا وہ اپنی وفاداری عوام کے ساتھ نبھا رہے ہیں یا پھر اپنے آقاؤں کے اشاروں پر چل رہے ہیں؟
محمد اعظم علی نے کہا کہ کے سی آر کو فلاحی کاموں کے لئے کبھی دہلی کے دروازے نہیں کھٹکھٹانے پڑے، ریاست کی ترقی صرف انہی کے دور میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے دور میں 204 اقلیتی اقامتی اسکول قائم کئے جہاں 1.3 لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کررہے تھے۔ غریب لڑکیوں کی شادی کے لئے "شادی مبارک” اسکیم متعارف کروائی گئی۔ کسانوں کو ہمہ وقت سہولتیں ملتی رہیں۔ امام و مؤذنین کو اعزازیہ دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب سے کانگریس اقتدار میں آئی ہے ریاست پھر سے خستہ حالی اور پسماندگی کا شکار ہوگئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں داخلے گھٹ گئے ہیں۔ غریبوں کے مکانات منہدم کئے جارہے ہیں۔ کسان یوریا کے مسئلے سے پریشان ہیں۔ ریاستی عوام کانگریس کو عنقریب مناسب سبق سکھائیں گے اور کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 420 انتخابی وعدے کئے تھے، غریب لڑکیوں کی شادی میں ایک لاکھ روپئے مالی امداد کے ساتھ ساتھ ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ کیا لیکن کوئی وعدہ وفا نہیں کیا۔ آج کالیشورم پراجیکٹ کے میڈی گڈہ بیرج میں شگاف کا بہانہ بنایا جارہا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ دیڑھ سال سے زیادہ اقتدار میں رہنے کے باوجود اسے درست کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا آپ 20 ماہ تک سوئے رہے؟
انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی صرف انتقامی سیاست پر عمل پیرا ہیں۔ آج سیلاب کی صورتحال میں حکومت کی کوئی سنجیدہ راحت کاری نظر نہیں آرہی ہے ۔ آپ بی جے پی کے اشاروں پر عمل کررہے ہیں۔ لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔محمد اعظم علی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ کانگریس حکومت نے امام و مؤذنین کے اعزازیہ میں اضافہ کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔مقررہ 5 ہزار روپئے اعزازیہ بھی وقت پر فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ کابینہ میں مسلم نمائندگی بھی ندارد ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام جان لیں کہ "ہاتھ کے نشان” کے دل میں دراصل "کنول” کھلتا ہے۔ کانگریس اور بی جے پی میں ساز باز ہو چکا ہے۔یہ دونوں قومی جماعتیں بی آر ایس کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔لیکن ان کی کوششیں ناکام ہوں گی اور بی آر ایس پارٹی شاندار اکثریت کے ساتھ دوبارہ برسر اقتدار آئے گی۔ اس موقع پر بی آر ایس اقلیتی قائدین محمد خواجہ بدرالدین، ارشد نواب، شیخ فرید، محمد باسط، محمد اکبر حسین، عبدالکلیم، مجاہد، محمد فہیم و دیگر موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button