اے پی میں ڈرون ایمبولنس متعارف، کیمروں کی تنصیب

اے پی میں ڈرون ایمبولنس متعارف، کیمروں کی تنصیب
حیدرآباد، 11ستمبر:اے پی کے ضلع کرنول میں طب اور ٹکنالوجی کے امتزاج سے ایک منفرد ایجاد سامنے آئی ہے۔ ایمرجنسی حالات میں بروقت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے ڈرون ایمبولینس تیار کی گئی ہے۔ اس جدید سہولت کو کرنول ٹریپل آئی ٹی ڈی ایم کالج کے ای سی ای شعبہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کرشنا نائک نے طلبہ اور ترگن روبوٹکس انکوبیشن کمپنی کے نمائندوں کے ساتھ مل کر متعارف کرایا۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ روایتی ایمبولینسیں ٹریفک یا دیگر رکاوٹوں کے باعث مریض یا زخمی تک وقت پر نہیں پہنچ پاتیں جس کے نتیجہ میں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اسی مشکل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈرون ایمبولینس ڈیزائن کی گئی ہے تاکہ فوری طور پر مریض کے مقام تک ادویات اور طبی رہنمائی پہنچ سکے۔اس ڈرون ایمبولینس میں کیمرے نصب کئے گئے ہیں جو کنٹرول روم اور ایمبولینس میں نصب اسکرینوں سے منسلک رہتے ہیں۔ اس کے ذریعہ ڈاکٹر مریض یا زخمی کی حالت کو براہِ راست دیکھ سکتے ہیں۔ ڈرون میں اسپیکر بھی لگائے گئے ہیں جن کے ذریعہ ڈاکٹر کنٹرول روم سے براہِ راست مریض یا اس کے رشتہ داروں سے گفتگو کر سکتے ہیں اور ابتدائی طبی اقدامات کی ہدایت دے سکتے ہیں۔یہ سہولت اس وقت تک مریض کی جان بچانے میں مددگار ہوگی جب تک ایمبولینس یا پیرامیڈیکل عملہ موقع پر نہ پہنچ جائے۔ محققین کے مطابق اس ڈرون کو پانچ کلو میٹر تک بھیجا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف طب بلکہ سماجی معلومات پہنچانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً گاؤں میں راشن کی تقسیم یا بجلی و پانی کی فراہمی سے متعلق اعلانات کرنا۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سڑک حادثات کے بعد پہلا گھنٹہ علاج کے لئے سب سے اہم ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر ڈرون ایمبولینس کی سہولت قیمتی جانیں بچانے میں انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔اسی دوران کرنول ٹریپل آئی ٹی ڈی ایم کالج کے کیمپس کو عالمی سطح پر بھی پہچان ملی ہے۔ حال ہی میں ورلڈ آرکیٹیکچر فیسٹیول سنگاپور میں منعقد ہوا جہاں دنیا بھر کے 760 اداروں نے مختلف زمروں میں حصہ لیا۔ اس مقابلہ میں کرنول ٹریپل آئی ٹی نے انسٹی ٹیوشن زمرہ میں دنیا بھر میں نواں مقام حاصل کیا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈرون ایمبولینس جیسی سہولت مستقبل میں طب کے میدان میں ایک نئی سمت متعین کرے گی اور کرنول ٹریپل آئی ٹی کی یہ اختراع ریاست کے ساتھ ساتھ ملک کے لئے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔



