تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

کانگریس حکومت کی دھوکہ دہی سے ائمہ وموذنین بھی محفوظ نہیں

بی آرایس ہی مسلمانوں کی حقیقی ہمدرد‘جوبلی ہلز کے انتخاب میں کامیاب بنایاجائے:محمداعظم علی

کانگریس حکومت کی دھوکہ دہی سے ائمہ وموذنین بھی محفوظ نہیں
گزشتہ چار ماہ سے اعزازےہ کی عدم فراہمی۔ہدےہ میں اضافہ کا وعدہ بھی وفا نہیں ہوا۔اقلیتی اقامتی اسکولس کے ساتھ ناروا سلوک کہیں اداروں کو بند کرنے کی سازش تونہیں؟
بی آرایس ہی مسلمانوں کی حقیقی ہمدرد‘جوبلی ہلز کے انتخاب میں کامیاب بنایاجائے:محمداعظم علی

حیدرآباد۔24ستمبر(آداب تلنگانہ نیوز)سینئر بی آرایس قائد محمداعظم علی نے کہاکہ کانگریس پارٹی برسراقتدار آکر تقریباً2سال کا عرصہ ہونے جارہاہے تاہم ماقبل انتخابات عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیاگیاہے۔کانگریس پارٹی نے ماقبل انتخابات بڑے ہی دھڑلے سے مائناریٹی ڈکلیریشن کا اعلان کیاتھا۔مائناریٹی ڈکلیریشن میں کئے گئے ایک بھی وعدہ کو پورا نہیں کیاگیاہے۔محمداعظم علی نے صحافتی بیان میں بتایاکہ بہت ہی افسوس کے ساتھ کہناپڑرہاہے کہ کانگریس حکومت ائمہ وموذنین کو ماہانہ اعزازےہ بھی پابندی کے ساتھ فراہم نہیں کررہی ہے۔ریاست تلنگانہ میں ائمہ وموذنین کو گزشتہ چارماہ سے اعزازےہ کی فراہمی عمل میںنہیں لائی گئی ہے۔بی آرایس کے دورحکومت میں ائمہ موذنین کےلئے ماہانہ 5ہزارروپئے اعزازےہ کی فراہمی کا آغاز کیاگیا اور ائمہ وموذنین کو عقیدت واحترام کے ساتھ ہرماہ اعزازےہ فراہم کیاجاتارہا۔ماقبل انتخابات کانگریس پارٹی نے ائمہ کو12ہزار روپئے اور موذنین کو10ہزار روپئے اعزازےہ کی فراہمی کا وعدہ کیا۔تاہم اقتدار پر فائز ہونے کے بعد اس وعدے کو آج تک وفانہیں کیا۔طرفہ تماشہ ےہ ہے کہ ائمہ وموذنین کو مقررہ 5ہزار روپئے اعزازےہ بھی وقت پر نہیں دیاجارہاہے۔محمداعظم علی نے کہاکہ ائمہ وموذنین کو اعزازےہ سے محروم کرنے کےلئے کانگریس حکومت نت نئی شرائط بھی عائد کررہی ہے۔ائمہ وموذنین کو اعزازےہ کےلئے انکم سرٹیفکیٹ کو لازمی قراردیاجارہاہے۔انہوںنے کانگریس حکومت کی نت نئی شرائط کی شدید مذمت کی اور حکومت سے پرزورمطالبہ کیاکہ وہ تمام ائمہ وموذنین کو وقت پر اعزازےہ کی فراہمی کو یقینی بنائے۔وعدے کے مطابق ائمہ وموذنین کے اعزازےہ میں اضافہ کیاجائے۔محمداعظم علی نے کہاکہ اقلیتی مسلم طلبا وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ وپیراستہ کرنے کےلئے بی آر ایس دورحکومت میں نمایاں خدمات انجام دی گئیں۔ریاست بھر میں 204اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام عمل میںلایاگیا۔اقلیتی اقامتی اسکولس میں زائد از دیڑھ لاکھ طلبہ کو قیام وطعام کے ساتھ معیاری تعلیم فراہم کی گئی۔بی آرایس کے دورحکومت میںکے سی آر کی ہدایت پر اقلیتی اقامتی اسکولس کی ذمہ داری شفیع اللہ نے بخوبی نبھائی۔تاہم آج کانگریس کے دورمیں اقلیتی اقامتی اسکولس کی ذمہ داری شفیع اللہ کے پاس ہی ہے ۔تاہم اقامتی اسکولس کی صورتحال ابتر ہے۔آخر اس کے پس پردہ کیا وجوہات ہیں۔آخر اقلیتی اقامتی اسکولس کے تئیں اتنی لاپرواہی کیوں برتی جارہی ہے۔محمداعظم علی نے کہاکہ سکریٹری مائناریٹیز شفیع اللہ سے میرا سوال ہے کہ کیا حکومت کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولس کوبند کرنے کی سازش کی جارہی ہے؟سینئر بی آرایس قائد نے کہاکہ حال ہی میں اقلیتی اقامتی اسکولس کے کنٹراکٹ اور آﺅٹ سورسنگ اساتذہ کی تنخواہوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی گئی۔بی آرایس کے کارگزار صدر کے تارک راماراﺅ کے بروقت اقدام اور اساتذہ کے احتجاج کے باعث حکومت کو اساتذہ کی تنخواہوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کے فیصلہ سے دستبردار ہونا پڑا۔انہوںنے کہاکہ آخر اقلیتی اقامتی اسکولس کے ساتھ حکومت ناروا اور سوتیلا سلوک کیوں کررہی ہے۔محمداعظم علی نے کہاکہ کانگریس پارٹی کو اقلیتوں کی ترقی اور فلاح وبہبود سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اقلیتوں کے ساتھ دھوکہ کانگریس کا وطیرہ رہاہے۔اب عنقریب حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کا ضمنی انتخاب منعقد ہونے والاہے۔ایسے حالات میں اقلیتوں کو لبھانے کےلئے کانگریس پارٹی دوبارہ ڈرامہ بازی کررہی ہے۔ضمنی انتخاب کے اعلامےہ کی اجرائی سے قبل ہی مضحکہ خیز انداز میں نئی اسکیمات کا اعلان کیاجارہاہے۔جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب کو مدنظر رکھتے ہوئے آ ج ریاستی حکومت متعد داعلانات کررہی ہے جو عوام بالخصوص مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔محمداعظم علی نے کہاکہ کانگریس حکومت میں اقلیتوں کو بالکلےہ طور پر نظر انداز کردیاگیاہے۔امن وامان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حلقہ انتخاب میں رات کی تاریکی میں مقدس مقامات کو شہید کردیاگیاہے۔کابینہ میں مسلم وزیر ندارد ہے۔محمداعظم علی نے کہاکہ اقلیتوں کی ترقی صرف اور صرف بی آرایس کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔انہوںنے عوام بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں متحدہ طور پر بی آرایس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرےں اور کے سی آر کے ہاتھ مضبوط کریں۔انہوںنے پرزورانداز میںکہاکہ جوبلی ہلز کا ضمنی انتخاب کانگریس کی اقتدار سے بے دخلی کا نقطہ آغاز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button