تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں
مسلمان کسی کے بھی بہکاوے میں نہ آئیں
بی آر ایس ہی اقلیتوں کی حقیقی ہمدرد، کے سی آر حقیقی عظیم عوامی قائد کے ٹی آر اور محمد محمود علی کا خطاب

مسلمان کسی کے بھی بہکاوے میں نہ آئیں
بی آر ایس ہی اقلیتوں کی حقیقی ہمدرد، کے سی آر حقیقی عظیم عوامی قائد
کے ٹی آر اور محمد محمود علی کا خطاب
بورابنڈہ میں مشہور و معروف عالم دین مولانا احمد نقشبندی سے ملاقات
کارگزار صدر بی آر ایس کے تارک راما راؤ سابق وزیرداخلہ محمد محمود علی و دیگر سینئر بی آر ایس قائدین نے آج بورابنڈہ میں مشہور و معروف عالم دین مولانا احمد نقشبندی کے مکان پہنچ کر ملاقات کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کو دھوکہ دیتی آئی ہے۔ اگر آپ دوبارہ کانگریس پر بھروسہ کریں گے اور اس کی تائید کریں گے تو یہ وہی بات ہوگی کہ آپ اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھیں نوچ رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مسلم بھائی غور و فکر کریں کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، آپ کو پھر ایک مرتبہ گمراہ کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ یادرکھیں آپ سے یہی کہا جائے گا کہ بی آر ایس بی جے پی کی بی ٹیم ہے۔ تاہم آپ دیکھیں کہ بی آر ایس نے اپنی ساڑھے نو سالہ دور حکومت میں مسلمانوں کی ترقی کے لئے کس طرح کام کیا ہے۔ بی آر ایس کبھی بھی بی جے پی کی بی ٹیم نہیں رہی ہے۔ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے کانگریس پارٹی بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کے سی آر کے دور حکومت میں مسلمانوں کی ترقی کے لئے 12 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جس کی ملک بھر میں نظیر نہیں ملتی۔ جھوٹ اور فریب کانگریس کا وطیرہ ہے اور کانگریس پارٹی خود کو مسلم ووٹوں کی ٹھیکہ دار سمجھتی ہے۔ کانگریس پارٹی بی جے پی ڈراکر مسلمانوں سے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مسلمان سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں کانگریس کو کئی مواقع دئے گئے، ہندوستان میں تقریباً ساٹھ برسوں تک کانگریس کی حکومت رہی تاہم کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ ہی کیا۔ کانگریس نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔ ماقبل انتخابات عوام سے جھوٹے وعدے کئے گئے۔ میناریٹی ڈکلیرشن کی اجرائی عمل میں لائی گئی۔ اقلیتوں کے لئے ہر سال بجٹ میں چار ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ دو بجٹ گزرچکے ہیں تیسرا بجٹ مارچ میں آنے والا ہے تاہم چار ہزار کروڑ روپئے بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ کانگریس نے اپنے دور حکومت میں کبھی بھی ائمہ و موذنین کی فکر نہیں کی اور نہ کئی اعزازیہ مقرر کیا تھا۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں کے چندر شیکھر راؤ نے ائمہ موذنین کو عقیدت و احترام کے ساتھ پانچ ہزار روپئے ماہانہ اعزازیہ فراہم کیا۔ ماقبل انتخابات کانگریس نے پانچ ہزار روپئے اعزازیہ کو کم قرار دیا اور بارہ ہزار روپئے کی فراہمی کا وعدہ کیا آج تک اس وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا ہے۔ پانچ ہزار روپئے اعزازیہ بھی آٹھ ماہ سے ائمہ و موذنین کو جاری نہیں کیا گیا ہے۔ میناریٹی ڈکلریشن میں کئے گئے ایک بھی وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے کے لئے آج ہی ہم نے کانگریس کا باقی کارڈ جاری کیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اس کارڈ کو گھر گھر پہنچایا جائے اردو زبان میں بھی کارڈ شائع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ووٹ دینا اپنی پریشانیوں کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت ہے جوبلی ہلز میں مسلم قبرستان کے لئے اراضی کی فراہمی کے معاملہ میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ کے ٹی آر نے پرزور انداز میں کہا کہ جب محمود صاحب وزیر مال تھے تو مسلم قبرستانوں کے لئے کے سی آر صاحب نے 125 ایکڑ اراضی مختلف مقامات پر فراہم کی تھی۔ عیسائی قبرستانوں کے لئے 40 ایکڑ زمین دی گئی تھی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ آج ہم مولانا نقشبندی کے مکان آئے ہیں ہوسکتا ہے کہ کل ریاستی وزراء پونم پربھاکر، جی وویک یا کوئی اور یہاں پہنچ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس ہی آپ کی حقیقی خدمت گزار ہے۔ کانگریس کے سب لیڈر الیکشن کے بعد غائب ہوجائیں گے صرف بی آر ایس کے قائدین ہی عوام کی خدمت کے لئے موجود رہیں گے۔
محمد محمود علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا احمد نقشبندی مذہبی رہنما ہیں۔ انہوں نے حق و انصاف اور عوامی خدمت کے باعث بی آر ایس کی ہمیشہ سے ہی تائید کی ہے۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ ہندوستان میں سب سے بڑے سیکولر اور مسلمانوں کے ہمدرد قائد کے سی آر ہیں۔ کے سی آر مسلمانوں کو دل سے چاہتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں تعلیم اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کرنے کا کے سی آر نے بیڑا اٹھایا۔ کے سی آر مسلمانوں کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ محمد محمود علی نے کہا کہ جب ایک سروے میں اس بات کا پتہ چلا کہ مسلمان تعلیمی اعتبار سے بہت زیادہ پسماندہ ہیں تب کے سی آر نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے اندرون دو سال 204 اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایا۔ جس میں ایک لاکھ 40 ہزار بچے تعلیم حاصل کرتے تھے وہیں کانگریس نے متحدہ ریاست میں تقریباً پچاس برس تک حکومت کی تاہم صرف دس ہی اقامتی اسکولس موجود تھے۔ مسلمانوں کو تعلیم فراہم کرنے والے عظیم لیڈر کے سی آر ہیں۔ محمد محمود علی نے کہا کہ کے سی آر کے فرزند کے ٹی آر ایک حرکیاتی لیڈر ہیں اور بہترین صلاحتیوں کے مالک ہیں۔ محمد محمود علی نے کہا کہ 1947 میں ہندوستان آزاد ہوا 1948 میں نظام اسٹیٹ کا ہندوستان میں انضمام عمل میں آیا۔ 1948سے 2014 تک کئی فسادات ہوئے۔ سال 2014 میں بی آر ایس کی حکومت آئی اور ساڑھے نو سال ایک بھی فساد رونما نہیں ہوا۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں مسلمانوں نے خوشحال زندگی بسر کی۔ آج کانگریس کے دور میں تمام طبقات مشکلات کا شکار ہیں اور بی آر ایس کے دور حکومت کو یاد کررہے ہیں۔ کے سی آر کے دور حکومت میں ریاست تلنگانہ کو بے مثال ترقی دی گئی۔ کئی اسکیمات کے ذریعہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔
مولانا احمد نقشبندی نے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر اور محمد محمود علی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بی آر ایس کے ساتھ ہیں اور آگے بھی بی آر ایس کے ساتھ رہیں گے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ کے سی آر دوبارہ برسراقتدار آئیں۔ انہوں نے اپنی گھریلو ملازمہ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ غریب خاتون کی لڑکی کی شادی ہوکر دیڑھ سال کا عرصہ گزرچکا ہے تاہم آج تک شادی مبارک اسکیم کے تحت رقم نہیں ملی۔ مولانا احمد نقشبندی نے کہا کہ ان کی گھریلو ملازمہ بارہا یہ کہتی ہے کہ کے سی آر کا دور حکومت بہت اچھا تھا اس کی دونوں بیٹیوں کی شادی میں شادی مبارک اسکیم کے تحت جلد رقم حاصل ہوئی تھی۔ تاہم کانگریس دور میں ابھی تک رقم حاصل نہیں ہوئی ہے۔ مولانا احمد نقشبندی نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے جس کو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے۔ اس موقع پر محمد مجیب الدین ریاست صدر اقلیتی سیل بی آر ایس، مسیح اللہ خان سابق صدر نشین وقف بورڈ، محمد اعظم علی سینئر بی آر ایس قائد، عبداللہ سہیل، امتیاز اسحٰق سابق صدر نشین اقلیتی مالیتی کارپوریشن، ارشد نواب اور دیگر موجود تھے۔



