شیخ پیٹ میں مسلم قبرستان کےلئے اراضی کے الاٹمنٹ کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ بھونڈا مذاق
بی آرایس کے اقلیتی قائدین کا دفتر وقف بورڈ کے روبرو احتجاج۔کانگریس حکومت پر محمداعظم علی کی شدید تنقید

شیخ پیٹ میں مسلم قبرستان کےلئے اراضی کے الاٹمنٹ کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ بھونڈا مذاق
بی آرایس کے اقلیتی قائدین کا دفتر وقف بورڈ کے روبرو احتجاج۔کانگریس حکومت پر محمداعظم علی کی شدید تنقید
حےدرآباد۔6اکتوبر(آداب تلنگانہ نیوز)بی آرایس کے اقلیتی قائدین نے آج دفتر وقف بورڈ حج ہاﺅز پر صدائے احتجاج بلند کیا۔احتجاج میں صدرریاستی اقلیتی سیل محمدمجیب الدین ‘سابق صدرنشین وقف بورڈ مسیح اللہ خان ‘امتیاز اسحاق سابق صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ‘اکبر حسین سابق صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن‘میر عنایت علی باقری سابق صدرنشین سٹ ون‘محمداعظم علی ‘خواجہ بدرالدین‘ عبدالکلیم‘ عبدالباسط‘ لائق علی‘ارشد علی خان‘وحید احمد ایڈوکیٹ‘مقیت چندا‘خلیل ودیگر نے حصہ لیا۔حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ قبرستان کےلئے اراضی کا الاٹمنٹ کیاجائے۔تاہم کانگریس حکومت نے ہمیشہ سے ہی ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی اور اب جبکہ جوبلی ہلز کا ضمنی انتخاب قریب آرہاہے تو مسلمانوں کو گمراہ کرنے کےلئے 2500گز اراضی کی فراہمی کا کھوکھلا دعویٰ کیا گیا۔مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بی آریس پارٹی نے مسلم قبرستان کےلئے 10تا`15ایکر کی فراہمی کا مطالبہ کیاتھا۔تاہم حلقہ اسمبلی کاروان میں شیخ پیٹ ڈیویژن بتاتے ہوئے متنازعہ اراضی حوالے کرنے کی سازش کی گئی ہے۔اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے محمدمجیب الدین نے کہاکہ گزشتہ کل کانگریس کے وزراءسینئر قائدین نے قبرستان کےلئے 2500گز اراضی کے الاٹمنٹ کا اعلان کیا۔نہ ہی وقف بورڈ میں سی ای او ہیں اور نہ ہی سکریٹری ہیں اور نہ ہی وقف بورڈ کی میٹنگ منعقد ہوئی ہے۔صرف اور صرف ایک سرکولر کے ذریعہ 2500گز اراضی کی فراہمی کا اظہار کیاگیا۔ےہ اراضی بھی 16کیلو میٹر دو ر واقع ہے۔قبرستان کےلئے مناسب اراضی کےلئے مسلمان گزشتہ 22ماہ سے منتظر تھے۔ کانگریس حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔نہ ہی کانگریس میں کوئی مسلم رکن اسمبلی ہے اور نہ ہی مسلم رکن کونسل ہے اور نہ ہی کابینہ میں مسلم نمائندگی ہے۔محمدمجیب الدین نے کہاکہ تاریخ میں ماضی میں بھی جب جب متحدہ ریاست آندھرا پردیش اور ملک کی دیگر ریاستوں میں کانگریس کی حکومتیں تھی۔تب کبھی بھی ایسا نہیں ہواتھاکہ کابینہ میں مسلم نمائندگی نہ ہو۔تاہم آج تلنگانہ کابینہ میں کوئی مسلم وزیر نہیں ہے۔ریونت ریڈی کی حکومت وزیر اعظم مودی کے اشاروں پر کام کررہی ہے۔ ریونت ریڈی مودی کو بڑے بھائی قرار دیتے ہیں اور ان کے ہی اشاروں پر کام کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عامر علی خان کو ایم ایل سی بنایاگیا اور پھر ہٹادیاگیا۔اب اظہر الدین کے نام کا اعلان کیاگیاہے اور اس سلسلہ میں آج تک گورنر کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں آیاہے۔جس طریقہ سے مرکزی کابینہ میں مسلم نمائندگی نہیں ہے اسی طرح ریونت ریڈی کی کابینہ میں بھی مسلم نمائندہ ندارد ہے۔کانگریس حکومت کے ظلم وستم کا جواب جوبلی ہلز کے عوام ضرور دیںگے۔مسلمانوں کے ساتھ کانگریس حکومت نے بھونڈا مذاق کیاہے ۔عوام اور مسلمان کانگریس کو مناسب سبق سکھائیںگے۔محمد مجیب الدین نے کہاکہ جو 2500گز اراضی قبرستان کےلئے الاٹ کی گئی ہے وہ متنازعہ ہے۔ آج ہم پولیس سے نہیں لڑسکتے ہیں ۔ایک کانسٹبل سے نہیں لڑسکتے ہیں تو پھر ہم ملٹری والوں کا کیسے مقابلہ کریںگے۔ملٹری نے مذکورہ اراضی پر اپنا دعویٰ کیاہے۔عوام پولیس سے نہیں لڑسکتے اور پولیس ملٹری سے نہیں لڑسکتی اور مسلمان کس سے لڑسکتے ہیں۔اراضی کے ڈاکیومنٹ بھی نہیں ہےں ۔صرف اعلان کردیاگیاہے کہ 2500گز اراضی قبرستان کےلئے فراہم کی گئی ہے۔محمدمجیب الدین نے کانگریس کے وزراءاور اقلیتی قائدین سے کہاکہ موت اور حیات اللہ کے ہاتھ ہے ۔ہر ایک کو اس دارفانی سے کوچ کرناہے۔لہذا میری کانگریس کے وزراءاور قائدین سے یہی اپیل ہے کہ اس ماہ اگر کوئی مسلمان کا انتقال ہوجاتاہے تو کانگریس کے تمام قائدین میت کے ساتھ اس اراضی پر جائیں اور وہاں تدفین کےلئے انتظامات کرکے بتائیں۔جب آپ کو معلوم ہوگاکہ ےہ زمین کس کی ہے۔مسلمانوں کودھوکہ دینا مناسب نہیں ہے۔اس موقع پر سینئر بی آرایس قائد محمداعظم علی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ میں یو پی کی طرز پر مسلمانوں پر ظلم ہورہاہے۔انہوںنے طنزےہ انداز میں کہاکہ بڑے بھائی مسلمانوں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں تو چھوٹے بھائی تلنگانہ میں مسلمانوں کے ساتھ مذاق کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس طریقہ سے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے اور وقف کی جائیدادوں کو تباہ وتاراج کیاجارہاہے۔محمداعظم علی نے کہاکہ زمین کے الاٹمنٹ کے خصوص میںجی او تک جاری نہیں کیاگیاہے۔انہوںنے کہاکہ قبرستان کےلئے اراضی کے الاٹمنٹ کےلئے منعقدہ تقریب میں ضلع کلکٹر یاضلع مجسٹریٹ بھی نہیں تھے ۔صر ف مسلمانوں کو گمراہ کرنے کےلئے ےہ ایک منظم سازش کی گئی ہے۔وقف بورڈ صدر نشین عظمت اللہ کی غیر موجود گی میں متعلقہ عہدیدار کو یادداشت پیش کی گئی ۔



