تلنگانہ ؍ اضلاع کی خبریں

کے سی آر کے دور میں ترقی۔ ریونت کے دور میں تباہی:اعظم علی

جوبلی ہلز سے ماگنٹی سنیتا کی کامیابی یقینی

سینئر بی آر ایس قائد محمد اعظم علی نے اپنی پارٹی کے دیگر قائدین کے ہمراہ یوسف گوڑہ ڈیویژن کے وینکٹ گری علاقے میں مسجد محمدیہ میں نماز جمعہ ادا کی اور بعد ازاں مقامی عوام سے ملاقات کی۔ اس موقع پر تمام نے مرحوم ماگنٹی گوپی ناتھ کو یاد کرتے ہوئے رنج و غم کا اظہار کیا۔ محمد اعظم علی نے کہا کہ ماگنٹی گوپی ناتھ ایک ہمدرد اور عوام دوست قائد تھے جو ہر وقت عوامی مسائل کی یکسوئی میں پیش پیش رہتے تھے۔ خواہ مسئلہ آبی سربراہی کا ہو، برقی کا یا خستہ حال سڑکوں کی مرمت کا وہ ہر مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کراتے تھے۔
اعظم علی نے کہا کہ گوپی ناتھ مذہب و ملت سے بالاتر ہوکر عوام کی خدمت کیا کرتے تھے۔ رمضان ہو یا بتکماں، یا کوئی بھی تہوار ہو، وہ عوام کے درمیان رہتے اور ان کے دکھ سکھ میں شریک رہتے تھے۔
ریاست کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد اعظم علی نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاست تلنگانہ زبوں حالی کا شکار ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے دور حکومت میں ریاست نے جس تیز رفتاری سے ترقی کی آج وہ تمام ترقیاتی ثمرات کانگریس حکومت کی نااہلی کی نذر ہوچکے ہیں۔
اعظم علی نے مزید کہا کہ کے سی آر نے اپنے دس سالہ دور اقتدار میں وہ کارنامے انجام دیے جو کانگریس اپنے پچاس سالہ دور میں نہ کر سکی۔ ریاست میں 24 گھنٹے برقی اور پانی کی فراہمی، کسانوں کے فلاحی منصوبے، اور پرامن ماحول کے قیام جیسے اقدامات نے تلنگانہ کو ملک کی صف اول کی ریاستوں میں شامل کردیا تھا۔ لیکن آج ریونت ریڈی کی حکومت نے ریاست کو بدترین حالت میں پہنچا دیا ہے اور عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
آخر میں محمد اعظم علی نے جوبلی ہلز کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے ضمنی انتخاب میں بی آر ایس امیدوار محترمہ ماگنٹی سنیتا (مرحوم ماگنٹی گوپی ناتھ کی اہلیہ) کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ وہ اپنے شوہر کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
اس موقع پر ماگنٹی سنیتا، ان کی دختر، اور متعدد بی آر ایس قائدین بھی موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button