سداسیوپیٹ کے گرما پور میں کسانوں کا شدید احتجاج

مجوزہ ریجنل رنگ روڈ کےلئے سروے
سداسیوپیٹ کے گرما پور میں کسانوں کا شدید احتجاج
اراضیات کے سروے سے قبل پیکیج کے اعلان کا مطالبہ
حیدرآباد۔8اگست(آداب تلنگانہ نیوز)سدا سیو پیٹ کے گرما پور میں آج اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب کسانوں کی ایک خاصی تعداد نے مجوزہ ریجنل رنگ روڈ (آر آر آر)کےلئے اراضیات کے سروے کے خلاف شدید صدائے احتجاج بلند کیا۔آج جیسے ہی عہدیداران اراضیات کی حد بندی کےلئے یہاں پہنچے کسانوں نے احتجاج منظم کیا۔قومی شاہراہ 65پر گرما پورمیں ایک انٹر چینج کی تجویزپیش کی گئی ہے لہذا گرما پور اور پداپور کے کسانوں کو تقریباً 200ایکر اراضی سے محروم ہونا پڑے گا۔ےہ انٹر چینج ‘آر آر آرکے شمالی اور جنوبی حصوں کو مربوط کرے گا۔احتجاج کے امکانات کے پیش نظر عہدیداروں نے سروے کے پرامن انعقاد کویقینی بنانے کے خصوص میں بڑی تعداد میں پولیس ملازمین کی تعیناتی بھی عمل میں لائی تھی تاہم کسانوں نے سروے کو زائد از 2گھنٹوں تک روک دیا اور مطالبہ کیاکہ پہلے معاوضہ کے پیکیج کا اعلان کیاجائے اور پھر سروے کیاجائے۔جب عہدیداروں نے کسانوں کو سمجھانے کی کوشش کی تو انہوںنے آرڈی او یا کلکٹر سے بیان دینے کا مطالبہ کیا۔آرڈی او اور کلکٹر سنگاریڈی وزیر صحت دامودرراج نرسمہا کے پروگرام میں مصروف تھے اسی وجہ سے دیگر عہدیداروں سے بات چیت ناکام ہوگئی۔عہدیداروں نے دوبارہ سروے کی کوشش کی تاہم کسانوں نے شدید مخالفت کی ۔آخر کارپولیس نے مداخلت کی اور کسانوں کو حراست میںلے لیا اور مختلف پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کیا۔کسانوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے گرما پور کے کسان رمیش نے کہاکہ وہ حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ پہلے معاوضہ کے پیکیج کااعلان کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ ہم حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اراضی کی مارکٹ قیمت ادا کی جائے یا پھر اراضی کے بدلہ اراضی فراہم کی جائے۔رمیش نے کہاکہ ہمیں ترقی پر کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم ترقی چھوٹے کسانوں کے نقصان کی صورت میں نہیں ہونی چاہئے ۔سی پی آئی ایم لیڈر جیا راجو نے جو کسانوں کی تائید وحمایت میں آئے تھے ۔انہوںنے کسانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر اعتراض کیا ۔انہوںنے کہاکہ عہدیداران کسانوں کی بات سننے کےلئے بھی وقت نہیں دے رہے ہیں۔



