سدی پیٹ کے جوڑے کی چار لڑکیوں کو ایم بی بی ایس میں نشستوں کا حصول
راماچندرم اور شاردھا کو ہریش راﺅ کی مبارکباد ‘ہرممکنہ تعاون کی یقین دہانی

سدی پیٹ کے جوڑے کی چار لڑکیوں کو ایم بی بی ایس میں نشستوں کا حصول
راماچندرم اور شاردھا کو ہریش راﺅ کی مبارکباد ‘ہرممکنہ تعاون کی یقین دہانی
حیدرآباد۔10اکتوبر(آداب تلنگانہ نیوز)ضلع سدی پیٹ میں ایک غیر معمولی کامیابی میں ایک جوڑے کی چار دختران نے گزشتہ 6برسوں کے دوران مختلف میڈیکل کالجس میں ایم بی بی ایس کی نشستیں حاصل کیں۔کے راما چندرم اور شاردھا نامی جوڑے کو چار بیٹیاں ہیں۔اس جوڑے کی بڑی بیٹی ممتا نے سال 2018میں ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کیا اور اپنی ڈگری کی تکمیل کی ۔دوسری لڑکی مادھوی کو سال 2020میں ایم بی بی ایس میں داخلہ ملا۔اس جوڑے کی جڑواں بیٹیاں روہنی اور روشینی نے علی الترتیب 587اور 536نشانات کے حصول کے ذریعہ نیٹ میں کامیابی حاصل کی اور جارےہ سال ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کیا۔اس جوڑے نے سابق ریاستی وزیر ورکن اسمبلی سدی پیٹ بی آرایس ٹی ہریش راﺅ سے ملاقات کی اور ہاسٹل کے اخراجات کی تکمیل کےلئے مالی تعاون کی درخواست کی۔ ہریش راﺅ نے اس جوڑے کو مبارکباد پیش کی اور ہرممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔ہریش راﺅ نے کہاکہ ممتا ‘مادھوی‘روہنی اور روشینی نوجوان نسل کےلئے تحریک کا باعث بنی ہیں۔ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پیشہ کے اعتبار سے درزی کے راما چندرم نے کہاکہ ان کی جڑواں بیٹیوں نے جارےہ سال جگتیال کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کیا۔انہوںنے کہاکہ ان کی بیٹیوں نے ایم بی بی ایس میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں کیوںکہ سابق چیف منسٹر وبی آرایس سربراہ کے چندر شیکھر راﺅ کی وجہ سے تشکیل تلنگانہ کے بعد ایم بی بی ایس کی نشستوں میں کئی گنااضافہ ہوا۔سدی پیٹ ٹاﺅن کے نرسا پور علاقہ کے ساکن راما چندرم نے بتایاکہ ان کی بڑی بیٹی پی جی میں داخلہ کی تیاری کررہی ہے جبکہ دوسری بیٹی میڈیسن کورس کے چوتھے سال میں زیر تعلیم ہے۔



