انحراف معاملہ ‘ہائی کورٹ کافیصلہ کانگریس پارٹی کے چہرے پر طمانچہ
تلنگانہ میں ضمنی انتخابات ناگزیر۔عوام ریونت ریڈی کو مناسب سبق سکھائیںگے:کے ٹی آر

حیدرآباد، 9 ستمبر (آداب تلنگانہ نیوز): کارگزار صدر بی آر ایس و رکن اسمبلی سرسلہ، کے تارک راماراؤ نے منحرف ارکان اسمبلی سے متعلق تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے منحرف ارکان اسمبلی کے معاملے میں اندرون 4 ہفتہ کارروائی کرنے کی اسپیکر اسمبلی کو ہدایت دی ہے۔ کے ٹی آر نے عدالت کے فیصلے کو کانگریس پارٹی کے چہرے پر طمانچہ قرار دیا جس نے انحراف سے متعلق دوہرا معیار اپنایا ہے۔
آج ایک بیان میں کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس نے انتخابات کے دوران سخت مخالف انحراف قوانین کا وعدہ کیا تھا، تاہم اقتدار پر فائز ہونے کے بعد کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں انحراف کی حوصلہ افزائی کی جس سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے انحراف سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے پہلے ہی فیصلہ صادر کیا تھا کہ ایسی شکایات پر اندرون تین ماہ فیصلہ کیا جانا چاہئے، تاہم بی آر ایس کی جانب سے اس معاملے کو اٹھانے کے باوجود اسپیکر قانون ساز اسمبلی کارروائی کے آغاز میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں بی آر ایس کو عدالت سے رجوع ہونا پڑا۔
کے ٹی آر نے کہا کہ ہمیں شروع سے ہی پختہ ایقان تھا کہ عدالت سے انصاف حاصل ہوگا اور ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے عدلیہ پر ہمارے اعتماد کی توثیق کی ہے۔ تلنگانہ میں اب ضمنی انتخابات ناگزیر ہوگئے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ایک منحرف رکن اسمبلی دانم ناگیندر کو بی فارم کی حوالگی کے ذریعہ جمہوریت کا مذاق اڑایا۔ کانگریس کو مناسب سبق حاصل ہوا ہے۔
کارگزار صدر بی آر ایس نے راست طور پر کانگریس لیڈر راہول گاندھی پر طنز کیا اور کہا کہ راہول گاندھی سے گرگٹ بھی شرما جائے گا۔ انہوں نے مرکز اور غیر کانگریسی حکمران والی ریاستوں میں انحراف سے متعلق راہول گاندھی کے عوامی اور دوہرے موقف پر شدید تنقید کی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں انحراف کی حمایت کی گئی۔ انہوں نے کانگریس لیڈر کو چیلنج کیا کہ وہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے خلاف سخت کارروائی کریں جنہوں نے جھوٹے وعدے کئے اور بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو منحرف ہونے کے لئے لالچ دیا۔
انہوں نے مختلف ریاستوں میں کانگریس پارٹی کی متضاد پالیسیوں پر بھی استفسار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کی کارروائیاں ہماچل پردیش اور کرناٹک سے بالکل برعکس ہیں۔ تلنگانہ میں ایک پالیسی ہے اور دیگر ریاستوں میں دوسری پالیسی؟ راہول گاندھی کو اس دوغلے پن اور دوہرے معیار کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔
کے ٹی آر نے ریونت ریڈی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران چیف منسٹر نے منحرف ارکان اسمبلی پر سنگباری کا مطالبہ کیا تھا، اب ریونت ریڈی خود اس بات کی تصدیق کریں کہ عوام کس پر سنگباری کریں، ان پر یا منحرف اراکین اسمبلی پر۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے عوام کے مسائل کو بالکلیہ طور پر نظر انداز کردیا اور انحراف کی حوصلہ افزائی کی۔ کانگریس کو عدالت اور آئندہ ضمنی انتخابات دونوں میں عواقب و نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے منحرف اراکین اسمبلی پر افسوس کا اظہار کیا جو ریونت ریڈی کے وعدوں کے باعث دھوکہ کھا گئے اور عوام کے اعتماد سے محروم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ریونت ریڈی کا حقیقی چہرہ دیکھ لیا ہے اور ضمنی انتخابات میں عوام ریونت ریڈی کو مناسب سبق سکھائیں گے۔



