کانگریس حکومت میں مواضعات بالکلیہ طور پر نظر انداز – ریاستی وزیر سیتکا کو ہریش راﺅ کا سخت جواب
۔اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے بجائے دیہاتوں پر توجہ دینے کا مشورہ

حیدرآباد۔8اگست(آداب تلنگانہ نیوز)سابق ریاستی وزیر ورکن اسمبلی سدی پیٹ بی آرایس ہریش راﺅ نے کانگریس حکومت پر گرام پنچایتوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ ریاستی حکومت بنیادی طور پر صفائی کو برقراررکھنے میں بھی ناکا م ہوچکی ہے اور فنڈس کو دوسری طرف موڑاجارہاہے۔ہریش راﺅ‘ ریاستی وزیر ڈی انوسویا سیتکاکے ان ادعاجات پرردعمل کا اظہار کررہے تھے کہ بی آرایس حکومت پر جھوٹے الزامات عائد کررہی ہے۔ہریش راﺅ نے فی الفور فنڈس کی اجرائی کا حکومت سے مطالبہ کیا۔اپنے شدید ردعمل میں ہریش راﺅ نے گرام پنچایتوں کی ضروریات کی تکمیل میں ریاستی حکومت کی بے عملی اور بے حسی پر شدید تنقید کی اور ریاستی حکومت کو چیلنج کیاکہ وہ جھوٹ کی نشاندہی کرے ۔ہریش راﺅ نے کہاکہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس حقیقت میں جھوٹ کیاہے کہ ریاستی حکومت نے اپنے نویں مہینہ میں بھی گرام پنچایتوں کےلئے ماہانہ مختص رقم جاری نہیں کی۔انہوںنے اس بات کی وضاحت پر زوردیاکہ کیا حکومت کو مرکز سے اسکیمات جیسے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گیارنٹی اسکیم (ایم جی این آر ای جی ایس)اور دیگر سے 2100کروڑروپئے کے حصول کے علاوہ 15ویں فینانس کمیشن سے 500کروڑ روپئے منظور ہوئے ہیں تاہم ا ن میں سے کوئی بھی فنڈ گرام پنچایتوں کےلئے جاری نہیں کیاگیاہے۔انہوںنے سابق سرپنچوں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کو یاددلایا۔سرپنچوں کو اس وقت حراست میں لیاگیا جب انہوںنے بلوں کی ادائیگی کےلئے احتجاج منظم کیا۔انہوںنے مالی طور پر نظر انداز کرنے کے سنگین عواقب ونتائج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ دیہاتوں میں صفائی انتظامات رک گئے ہیںجس سے ڈینگواور ملیریا جیسی موسمی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ہریش راﺅ نے کہاکہ کیاےہ جھوٹ ہے کہ صفائی ملازمین کو دوماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں؟۔کیاےہ جھوٹ ہے کہ زیڈ پی ٹی سیز اور ایم پی ٹی سیز کو گزشتہ آٹھ ماہ سے اعزازےہ ادا نہیں کیاگیاہے؟۔ہریش راﺅ نے موجودہ حکومت کا بی آرایس کے دور سے موازنہ کرتے ہوئے کہاکہ بی آرایس کے دورحکومت میں گرام پنچایتوں کو ماہانہ 275کروڑ روپئے اور سالانہ 3300کروڑ روپئے جاری کئے گئے تھے تاکہ دیکھ بھال اور ضروری کاموں کی تکمیل کو یقینی بنایاجاسکے۔ہریش راﺅ نے کانگریس حکومت پر زوردیاکہ وہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے پر توجہ دینے کے بجائے مواضعات کی اہم ضروریات کی تکمیل پر توجہ مرکوز کرے۔انہوںنے اس بات کا اعادہ کیاکہ کانگریس حکومت کے آٹھ ماہ کے دوران مواضعات کو بالکلےہ طور پرنظر انداز کیاگیاہے۔



